உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر پولس اور فوج کی مشترکہ کارروائی، دہشت گردی میں شامل ہو رہے تین نوجوانوں کو والدین کے حوالے کیا گیا

    جموں وکشمیر کی کپواڑہ پولس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ۔ دہشت گردی کے صفوں میں شامل ہونے والے سوپور سے تین  نوجوانوں کو بچالیا ہے اور انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کارروائی میں تین نوجوانوں کو کنڈی گاؤں کے جنگلاتی علاقے سے پکڑ کر دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے روکا ہے۔

    جموں وکشمیر کی کپواڑہ پولس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ۔ دہشت گردی کے صفوں میں شامل ہونے والے سوپور سے تین نوجوانوں کو بچالیا ہے اور انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کارروائی میں تین نوجوانوں کو کنڈی گاؤں کے جنگلاتی علاقے سے پکڑ کر دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے روکا ہے۔

    جموں وکشمیر کی کپواڑہ پولس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ۔ دہشت گردی کے صفوں میں شامل ہونے والے سوپور سے تین نوجوانوں کو بچالیا ہے اور انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کارروائی میں تین نوجوانوں کو کنڈی گاؤں کے جنگلاتی علاقے سے پکڑ کر دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے روکا ہے۔

    • Share this:
    کپواڑہ: جموں وکشمیر کی کپواڑہ پولس اور فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے۔ دہشت گردی کے صفوں میں شامل ہونے والے سوپور سے تین  نوجوانوں کو بچالیا ہے اور انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، جموں وکشمیر پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کارروائی میں تین نوجوانوں کو کنڈی گاؤں کے جنگلاتی علاقے سے پکڑ کر دہشت گردوں کے جال میں پھنسنے سے روکا ہے۔ تین گمراہ لڑکے کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو عبور کرنے کے لئےجا رہے تھے۔

    پولیس نے تینوں نوجوانوں کی شناخت نصیراحمد وازہ ولد رسول وازہ، عدنان نصیر خان ولد نصیر احمد خان اور عمر ریاض صوفی ولد ریاض احمد صوفی کے طور پر کی ہے۔ تینوں نوجوان ڈورو سوپور کے رہنے والے تھے۔ ایس ایس پی کپواڑہ یوگل منہاس نے فوج اور پولس کے ہمراہ ایک پیرس کانفرنس کے دوارن کہا کہ یہ تینوں نوجوان دہشت گردی کے صفوں میں شامل ہونے کیلئے لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی کوشش میں  تھے، لکین فوج اور پولس نے ان تینوں نوجونواں کو کنڈی جنگلات سے پکڑلیا اور پوچھ گچھ کے بعد آج انہیں لواحقین کےحوالے کیا۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں شراب کی دکان پرگرنیڈ حملہ، ایک ملازم کی موت، تین دیگر زخمی

    یہ بھی پڑھیں۔

    مہاراشٹر اور کرناٹک کے بعد اب لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹانے کا مطالبہ جموں وکشمیر تک پہنچ گیا

    پولس کے مطابق، یہ نوجوان کسی سابق دہشت گرد کے بہکاوے میں آگئے تھے، لکین پولس کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے حادثہ کو ٹال دیا۔ کیونکہ اگر یہ ہتھیار اٹھا لیتے تو کسی بھی وقت کوئی کارروائی انجام دے سکتے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ نوجوان ہتھیار ڈالنے والے دہشت گرد کی طرف سے دہشت گردوں کی گلیمرائزیشن کی کہانیوں سے متاثر ہوئے ہیں، جنہوں نے انہیں پاکستان پہنچنے کا راستہ دکھایا۔

    واضح رہے کہ پولیس اور آرمی کا مشترکہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا، جب پولیس کو جنگل کے علاقے میں عام طور پر دہشت گردوں کی طرف سے کچھ مشتبہ نقل و حرکت کے بارے میں ایک ان پٹ موصول ہوا۔ شک ہونے پر معاملے کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ نوجوان بظاہر گمراہ ہوگئے ہیں اور انہیں معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہئے۔ نوجونواں اور والدین نے پولس کی اس کارروائی کی ستائش کی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: