உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: پلوامہ میں پولیس نے منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف حاصل کی بڑی کامیابی

    جموں وکشمیر کے پلوامہ میں منشیات کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں فکی منشیات کو ضبط کیا ہے۔

    جموں وکشمیر کے پلوامہ میں منشیات کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں فکی منشیات کو ضبط کیا ہے۔

    جموں وکشمیر کے پلوامہ میں منشیات کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں فکی منشیات کو ضبط کیا ہے۔

    • Share this:
    پلوامہ: جموں وکشمیر کے پلوامہ میں منشیات کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں فکی منشیات کو ضبط کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، سماج سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو مضبوط بناتے ہوئے، پلوامہ پولیس نے دو منشیات فروشوں کو گرفتارکیا اور ممنوعہ مادہ برآمدکیا۔

    پولیس اسٹیشن لیتر سے ایک پولیس پارٹی نے نائنہ بٹہ پورہ پلوامہ میں ایک ناکہ لگایا، ناکہ چیکنگ کے دوران پولیس پارٹی نے رجسٹریشن نمبر *CHO4K/0125 والی ایک سنٹرو کار کو روکا۔ دوران تلاشی پولیس پارٹی نے مذکورہ گاڑی سے 30 کلو گرام فکی poppy straw برآمد کرلی۔ منشیات فروشوں کو موقع پرگرفتارکرلیا گیا اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔ ملزمین کی شناخت بعد میں عمر بشیر ولد بشیر احمد داس ولد واگھامہ بجبہاڑہ اننت ناگ اورہارون امین شیخ ولد محمد امین شیخ ساکنہ نائنہ پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔
    اس سلسلے میں مقدمہ ایف آئی آر نمبر 73/2022 این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8/15 کے تحت پولس اسٹیشن لیتر میں درج ہے اور مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ پولیس تھانہ پلوامہ نے بھی کارروائی کے دوران گوسو پلوامہ سے ایک کوئنٹل سے زائد فکی کو ضبط کیا ہے۔
    پولیس نے کمیونٹی ممبران سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں منشیات فروشوں کے بارے میں کسی بھی معلومات کے ساتھ آگے آئیں۔ منشیات فروشی میں ملوث پائے جانے والے افراد کےخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: