உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: پولیس نے دو منشیات فروشوں کو پی ایس اے کے تحت ریاسی جیل میں کیا قید عوام سے منشیات کے خلاف تعاون دینے کی اپیل

    منشیات کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اور معاشرے سے منشیات کی لت کو ختم کرنے کے لئے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ماگام پولیس نے دو منشیات فروشوں کو پی ایس اے کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    منشیات کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اور معاشرے سے منشیات کی لت کو ختم کرنے کے لئے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ماگام پولیس نے دو منشیات فروشوں کو پی ایس اے کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    منشیات کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اور معاشرے سے منشیات کی لت کو ختم کرنے کے لئے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ماگام پولیس نے دو منشیات فروشوں کو پی ایس اے کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    • Share this:
    گلمرگ: منشیات کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اور معاشرے سے منشیات کی لت کو ختم کرنے کے لئے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ماگام پولیس نے دو منشیات فروشوں کو پی ایس اے کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ان منشیات فروشوں میں شبیر احمد صوفی جن کا تعلق مازہامہ ماگام اور آصف نزیر راتھر جو ارچندر ہامہ  ماگام سے ہے۔ ان دونوں منشیات فروشوں کو ڈسٹرکٹ جیل ریاسی میں قید کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق، مذکورہ ملزمان این ڈی پی ایس کے مقدمات میں ملوث تھے اور مقامی نوجوانوں کو منشیات کی سپلائی کرکے منشیات کے کاروبار کو فروغ دے رہے تھے۔ دوسری جانب، عام لوگوں نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے لئے پولیس کے کردارکو سراہا۔ ماگام پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ معاشرے کو منشیات اور دوسرے جرائم سے صاف وپاک کرنے میں پولیس کا تعاون دیں۔

    پولیس ماگام میں لوگوں کو منشیات کی لت سے معاشرے کو بچانے کی غرض سے جانکاری اور بیداری پروگرام منعقد کئےجاتے ہیں، جن میں لوگوں کو ایسے افراد کی نشاندھی کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔

    ایس ایس پی بڈگام نے بھی عوام سے اپیل کی کہ منشیات جیسی بیماری کے خلاف پولیس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوں تاکہ بروقت اس ناسور پر قابو پایا جاسکے۔ ماگام پولیس نے اس سے پہلے بھی کئی اہم کاروائیاں انجام دیں، جن میں بدنامہ زمانہ منشیات فروشوں کو سلاخوں کے پیچھے بند کیا گیا۔ مقامی لوگ پولیس کے اس اقدام کی ستائش کررہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: