உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderapora Encounter پر پولیس کی رپورٹ ، ڈاکٹر مدثر اور عامر ملی ٹینٹ کے ساتھی قرار ، الطاف احمد کو پاکستانی ملی ٹینٹ نے بنایا ڈھال

    Haidpura Encounter پر پولیس کی رپورٹ ، ڈاکٹر مدثر اور عامر ملی ٹینٹ کے ساتھی قرار ، الطاف احمد کو پاکستانی ملی ٹینٹ نے بنایا ڈھال

    Haidpura Encounter پر پولیس کی رپورٹ ، ڈاکٹر مدثر اور عامر ملی ٹینٹ کے ساتھی قرار ، الطاف احمد کو پاکستانی ملی ٹینٹ نے بنایا ڈھال

    Jammu and Kashmir News : حیدرپورہ انکاونٹر پر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں سرینگر کے ڈاکٹر مدثر اور رامبن کے عامر ماگرے کو ملی ٹینٹوں کا ساتھی بتایا گیا ہے جبکہ عمارت کے مالک الطاف احمد کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کراس فائرنگ میں مارا گیا ۔

    • Share this:
    سری نگر : حیدرپورہ انکاونٹر پر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں سرینگر کے ڈاکٹر مدثر اور رامبن کے عامر ماگرے کو ملی ٹینٹوں کا ساتھی بتایا گیا ہے جبکہ عمارت کے مالک الطاف احمد کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کراس فائرنگ میں مارا گیا ۔ سرینگر میں آج ایک پریس کانفرنس کے دوران خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ڈی آئی جی سنٹرل کشمیر سجیت کمار سنگھ نے میڈیا کے سامنے کچھ ویڈیوز اور دیگر دستاویزات رکھے ۔ اس موقع پر ڈی جی پی جموں و کشمیر  دلباغ سنگھ بھی موجود تھے۔ ایس آئی ٹی کے سربراہ ، سجیت کمار نے تحقیات کی جانچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس انکاونٹر میں ثقلین نامی ایک پاکستانی ملی ٹینٹ مارا گیا ، جس کی شناخت کئی لوگوں نے کی ہے۔ ان کے مطابق یہ ملی ٹینٹ گریز علاقے سے کنٹرول لائن پار کرکے کشمیر میں داخل ہوا تھا اور اسے سرینگر میں ملی ٹنٹ کارروائیاں کرنے کا کام دیا گیا تھا۔

    تحقیقات کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستانی ملی ٹینٹ ثقلین عامر ماگرے کے ساتھ حیدرپورہ میں اسی عمارت میں آتے جاتے دیکھا گیا ہے۔ عامر ماگرے کے بارے میں پولیس کا کہ کہنا ہے کہ وہ اس ملی ٹینٹ کا ساتھی بن گیا تھا اور اسے کئی جگہوں پر لے کر گیا تھا۔ سجیت کمار کا کہنا ہے کہ عامر ڈاکٹر مدثر کے ساتھ کام کرتا تھا اور ڈاکٹر مدثر بھی اس میں ملوث تھا۔

    انکاونٹر کی تفصیلات دیتے ہوئے ایس آئی ٹی انچارج سجیت کمار نے کہا کہ ڈاکٹر مدثر سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے وقت اپنی ذمہ داری پر عمارت کے اندر داخل ہوئے اور بعد میں ان کی لاش اوپر کے حصہ میں پائی گئی ۔ پولیس  کے مطابق ڈاکٹر مدثر کو پاکستانی ملی ٹینٹ نے گولی ماری ہوگی۔ عامر ماگرے اور عمارت کے مالک الطاف احمد کے بارے میں ایس آئی ٹی کا کہنا ہے کہ انھیں کراس فائرنگ میں گولی لگی جب پاکستانی ملی ٹینٹ عمارت سے باہر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ الطاف احمد کو پاکستانی ملی ٹینٹ نے انسانی ڈھال کے طور استعمال کیا اور جب اس پر فائرنگ کی گئی تو الطاف احمد کو گولی لگ گئی۔

    جب ڈی آئی جی سے پوچھا گیا کہ پولیس اب الطاف احمد کو کس کھاتے میں ڈالتی ہے مطلب یہ کہ کیا پولیس اس کو عام شہری کے زمرے میں ڈالتی ہے کہ نہیں ، تو انھوں نے واضح جواب دینے کی بجائے صرف اتنا کہا کہ ان کے گھر والوں نے ابھی کرایہ نامہ وغیرہ نہیں دیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ الطاف احمد کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ دیکھیں کہ جس عمارت کو انھوں نے کرایہ پر دیا تھا وہ کہیں غلط استعمال تو نہیں ہورہی ہے۔ ایس آئی ٹی کی پاور پوائنٹ اور ویڈیوز کے ذریعے یہ بتایا کیا گیا ہے کہ پاکستانی ملی ٹینٹ اس عمارت میں رہتا تھا اور اس عمارت کو ایک ملی ٹینٹ کمین گاہ کے طور استعمال کیا جارہا تھا۔

    ایس آئی ٹی کی اس رپورٹ میں وہی سب کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو آئی جی کشمیر نے انکاونٹر کے دوسرے روز کہا تھا۔ بس اتنا بدلا ہے کہ مارے گئے عامر ماگرے اور الطاف احمد کو سیکورٹی فورسز کی گولی لگی ہے۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: