ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : حد بندی کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے اور الیکشن کرانے کے مطالبہ میں شدت

حد بندی کمیشن کی میعاد میں مرکزی سرکار نے پھر ایک سال کا اضافہ کردیا ہے ۔ حد بندی کمیشن کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ کچھ نارتھ ایسٹ ریاستوں کی سیٹوں کی از سر نو حد بندی کریں ۔ ل

  • Share this:
جموں و کشمیر : حد بندی کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے اور الیکشن کرانے کے مطالبہ میں شدت
جموں و کشمیر : حد بندی کمیشن کی رپورٹ جلد پیش کرنے اور الیکشن کرانے کے مطالبہ میں شدت

حد بندی کمیشن کی میعاد ایک سال بڑھانے کے بعد اب ایسا لگ رہا ہے کہ اسمبلی الیکشن بھی ایک سال اور ڈھیڑ سال کے بعد ہی ہوسکتے ہیں ، جس سے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے ۔ حد بندی کمیشن کی میعاد میں مرکزی سرکار نے پھر ایک سال کا اضافہ کردیا ہے ۔ حد بندی کمیشن کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ کچھ نارتھ ایسٹ ریاستوں کی سیٹوں کی از سر نو حد بندی کریں ۔ لیکن جب سے حد بندی کمیشن بنا ہے ، تب سے اس کی صرف ایک مرتبہ ہی میٹنگ ہوئی ہے ۔ اس میں بھی نیشنل کانفرنس کے ممبران نے شرکت نہیں کی تھی ۔


حد بندی کمیشن میں جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے دو ممبران جیتندر سنگھ اور جوگل کشور تھے ۔ جبکہ این سی کے تین ممبران یعنی فاروق عبداللہ ، محمد اکبرلون اور جسٹس حسنین مسعودی ہیں ۔ لیکن پچھلے کئی مہینوں کے دوران اس حد بندی کمیشن کی صرف ایک مرتبہ ہی میٹنگ ہوئی ہے ۔ جس کا این سی نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ حالانکہ یہ ہونا چاہئے تھا اور کمیشن کو کہا گیا تھا کہ وہ جموں وکشمیر کا دورہ کرے اور اسٹیٹ ہولڈوں اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کرے اور پھر اپنی رپورٹ مرکزی الیکشن کمیشن کو پیش کرے ۔ اس کے بعد سیٹوں کی حد بندی ہوگی ، لیکن ایسا نہیں ہو پایا ہے ۔


اس کا سب سے بڑی وجہ کورونا وائرس کا قہر بتایا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے تمام کام کاج متاثر ہوئے ۔ حد بندی کمیشن کے کام کاج پر بھی بہت زیادہ فرق پڑا ہے ۔ لیکن جس طرح اس میں ایک سال کی توسیع کردی دی گئی ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں اب کافی تاخیر سے الیکشن ہوسکتے ہیں ۔ جبکہ یہاں کے لوگ انتخابات کے منتظر ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الیکشن اگلے سال کے آخر میں ہوں ۔


بی جے پی کے ساتھ ساتھ تمام پارٹیاں پریشان نظر آرہی ہیں کیونکہ جموں و کشمیر میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہورہی ہے ۔ این سی کے صوبائی صدر دیوندر سنگھ رانا کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی الیکشن نہیں کروانا چاہتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حد بندی کمیشن ایک بہانہ ہے ۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ یہاں الیکشن  نہیں کروانا چاہتے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کو اسٹیٹ کا درجہ ملتا تو اس سے یہاں کے لوگوں کی پریشانیاں دور ہوتیں ۔

کانگریس کے رمن بلا کا کہناہے کہ سرکار کے کہنے اور کرنے میں بہت فرق نظر آتا ہے ۔ سرکار سنجیدہ نظر نہیں آتی ہے ۔ جب بی جے پی کو اچھا لگے گا ، تب وہ الیکشن کروائیں گے ۔ ان کا کہناہے کہ بی جے پی کو لگ رہا ہے کہ حالات ان کیلئے اچھے نہیں ہیں ۔ یہاں انہوں نے ڈی ڈی سی اور دیگر انتخابات میں کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھائی ، اسی وجہ سے وہ اپنا میدان صاف کرنے کی کوشش میں ہے ۔

اپنی پارٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ حد بندی کمیشن کو جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرنی چاہئے اس کے بعد  جموں و کشمیر میں جلد از جلد الیکشن کروائے جانے چاہئے ۔ پینتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ کا کہنا ہے کہ یہاں حد بندی نہیں ہوگی ، یہ ایک بہانہ ہے اور یہ لوگ الیکشن موخر کریں گے ۔ بی جے پی ایک مذاق کررہی ہے ۔ تمام پارٹیوں کا کہنا ہے کہ جلد از جلد یہاں انتخابات ہونے چاہئیں ۔ لوگ بھی اسی انتظار میں ہیں کہ یہاں کب انتخابات ہوں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 08, 2021 08:30 AM IST