உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : حد بندی کمیشن نے پیش کی نئی شفارشات، جموں و کشمیر میں پھر سیاسی گھمسان شروع

    Jammu and Kashmir News : اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے لئے مقررہ حد بندی کمیشن نے کچھ نئی سفارشات پیش کی ہیں۔ تاہم ان نئی سفارشات کے بعد بھی جموں و کشمیر میں سیاسی گھمسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

    Jammu and Kashmir News : اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے لئے مقررہ حد بندی کمیشن نے کچھ نئی سفارشات پیش کی ہیں۔ تاہم ان نئی سفارشات کے بعد بھی جموں و کشمیر میں سیاسی گھمسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

    Jammu and Kashmir News : اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے لئے مقررہ حد بندی کمیشن نے کچھ نئی سفارشات پیش کی ہیں۔ تاہم ان نئی سفارشات کے بعد بھی جموں و کشمیر میں سیاسی گھمسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: اسمبلی اور پارلیمانی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے لئے مقررہ حد بندی کمیشن نے کچھ نئی سفارشات پیش کی ہیں۔ تاہم ان نئی سفارشات کے بعد بھی جموں و کشمیر میں سیاسی گھمسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں حد بندی کمیشن اور بی جے پی پر بدستور حملہ آور ہیں تو وہیں بی جے پی کمیشن کی نئی سفارشات سے مطمئن دکھائی دے رہی ہے۔ چند روز پہلے جب حد بندی کمیشن نے اپنی پہلی رپورٹ پیش کی تھی تو جموں و کشمیر میں ایک سیاسی طوفان دیکھنے کو ملا تھا ، کیونکہ بیشتر اپوزیشن جماعتیں حد بندی کمیشن کی اس رپورٹ سے ناراض دکھائی دیں ۔ یہاں تک کہ بی جے پی نے بھی کھلے عام اس رپورٹ کی کچھ سفارشات پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اب جبکہ دوبارہ حد بندی کمیشن نے نئی سفارشات پیش کی ہیں ۔ کمیشن نے ان سفارشات کو اپنے پانچوں ممبران کو مطالعہ کے لئے پیش کی ہیں ۔ تاکہ وہ اپنا رد عمل ظاہر کر سکیں ان ممبران کو چار مارچ تک اپنی رائے ظاہر کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔

    ان سفارشات میں پونچھ اسمبلی حلقے کو دوبارہ عام زمرے کی سیٹ میں رکھا گیا ہے جبکہ راجوری حلقے کو ریزرو زمرے میں رکھنے کی سفارش پیش کی گئی ہے۔ جموں کے سُچیت گڑھ اسمبلی حلقے کو پہلے جہاں ختم ہی کر دیا گیا تھا تو وہیں اب اسے دوبارہ اسمبلی حلقہ بحال کرنے کی سفارش پیش کی گئی ہے ، لیکن اس حلقے کو درج فہرست ذات کے لئے ریزرو کیا گیا ہے۔ سرینگر کے حبہ کدل اسمبلی حلقے کو دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور کشتواڑ لکے مغل میدان اسمبلی حلقے کو دوبارہ پرانا  اندروال حلقہ نام دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن نے کئی اسمبلی حلقوں کی حد بندی کی اپنی پہلی سفارش کو بدل کر دوبارہ ان کے حدود میں بدلاو کی سفارش پیش کی ہے۔

    آر ایس پورہ اسمبلی حلقے کو جموں سائوتھ کے ساتھ جوڑنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ کورٹ سرکل کو جموں نارتھ کے ساتھ ملانے کی سفارش پیش کی گئی ہے۔ سنگلدان علاقے کو بانہال اسمبلی حلقے کے ساتھ جوڑنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح دومانہ کے چار پنچایتوں کو اب مڈ حلقے کی جگہ جموں نارتھ کے ساتھ جوڑنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ لیکن کمیشن کی طرف سے پیش کی گئی ان نئی سفارشات پر بھی اپوزیشن پارٹیاں مطمئن نہیں دکھائی دے رہی ہیں ۔

    نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سفارشات سے جموں و کشمیر کے لوگ بدظن ہوں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں سرکار میں آنے کے لئے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جی پی جموں و کشمیر اسمبلی میں تین سو ستر کی منسوخی کی قرار داد کو پاس کرنے کی کوشش میں ہے،  اسی لئے کسی بھی طریقہ سے وہ جموں و کشمیر میں اپنی سرکار قائم کرنا چاہتی ہے۔  نیشنل کانفرنس کے جموں کے صدر رتن لعل گُپتا نے نیوز18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے اگرچہ ان کی طرف سے پیش کی گئی چند تجاویز کو مانا ہے تاہم پوری طرح سے پارٹی کمیشن کے کام سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے لوگ بھی کمیشن کی سفارشات سے مطمئن نہیں ہیں۔

    پردیش کانگریس کے کارگزار صدر رمن بھلا نے کمیشن کی سفارشات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کمیشن بی جے پی کی ہدایات کے مطابق کام کرکے اپنی سفارشات پیش کر رہا ہے اور جیسا بی جے پی چاہتی ہے وہی کمیشن کر رہا ہے۔ ادھر کمیشن نے بی جے پی کی کچھ تجاویز کو تو مانا لیکن ان کی کئی تجاویز کو درکنار بھی کیا گیا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے شوپیاں علاقے کو اننت ناگ پونچھ پارلیمانی حلقے کے ساتھ جوڑنے کی تجویز پر کمیشن نے کوئی غور نہیں کیا ہے۔ لیکن پھر بھی بی جے پی کے لیڈران کمیشن کی نئی سفارشات سے مطمئن ہیں۔

    پارٹی کے سینیر لیڈر کویندر گُپتا کا کہنا ہے کہ پارٹی کو اس بات کی خوشی ہے کہ کمیشن نے ہر سیاسی جماعت کی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ تیار کر لی ہے ۔ لہذا کسی بھی پارٹی کو کمیشن کے کام کاج پر شک نہیں ہونا چاہئے۔ ادھر سیاسی تجزیہ کارو ں کا ماننا ہے کہ  حد بندی کے اس کام کو کسی جلد بازی کے بغیر لوگوں اور سیاسی لیڈران کے ساتھ تفصیلی صلاح مشورہ کرنے کے بعد ہی مکمل کیا جانا چاہئے ۔ تاکہ آئندہ کوئی تنازعہ کھڑا نہ ہو۔

    سیاسی تجزیہ نگار انیل بٹ نے نیوز18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حد بندی کے کام کو مختلف سیاسی پارٹیوں خاص کر عام لوگوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرکے ہی مکمل کیا جانا چاہئے اور ایسی سفارشات لاگو ہونی چاہئیں جس سے پورے جموں و کشمیر کے عوام مطمئن ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کرتے ہوئے آبادی کے تناسب کو ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: