ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : دربار مو منسوخ کئے جانے کے فیصلہ پر سیاست تیز ، جانئے کس پارٹی نے کیا کہا

Jammu and kashmir News : جموں وکشمیر میں دربارمو کی منتقلی کو منسوخ کرنے سے متعلق لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے فیصلے پر جموں و کشمیر کی اہم سیاسی پارٹیوں نے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : دربار مو منسوخ کئے جانے کے فیصلہ پر سیاست تیز ، جانئے کس پارٹی نے کیا کہا
جموں و کشمیر : دربار مو منسوخ کئے جانے کے مجوزہ فیصلہ پر سیاست تیز ، جانئے کس پارٹی نے کیا کہا

جموں و کشمیر : جموں وکشمیر میں دربارمو کی منتقلی کو منسوخ کرنے سے متعلق لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے فیصلے پر جموں و کشمیر کی اہم سیاسی پارٹیوں نے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ پارٹی کے جموں وکشمیر کے صدر رویندر رینہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدم قابل ستائش ہے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدیوں پرانی اس روایت کو بدلنے کی ضرورت تھی ۔ کیونکہ سال میں دوبار دربارمو کی منتقلی عوام کے فنڈس کی بربادی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دربار مو سیاست دانوں اور افسر شاہی کے لیے مفید ہے ۔ تاہم اس سے عام لوگوں کو کوئی بھی سہولت میسر نہیں رہتی ۔


رینہ نے کہا کہ جب جموں میں شدید گرمی کی وجہ سے لوگ پریشان رہتے ہیں تو اس وقت وزراء اور سرکاری افسران سرینگر میں قیام پزیر ہوتے تھے اور جب شدید سردی کی وجہ سے کشمیر وادی کے عام لوگوں کوموسمی حالات کی وجہ سے مشکلات درپیش رہتی تھیں اور سرکار کی موجودگی لازمی بنتی تھی ، تب سرکاری کارندے جموں میں قیام پزیر ہوجاتے تھے ۔ جس سے جموں وکشمیر دونوں خطوں کے لوگوں کو سہولت کی بجائے پریشانی کا سامنا رہتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس قدم سے عام لوگوں کو راحت ملے گی اور ان کے مسائل آسانی سے حل ہوپائیں گے ۔


وہیں دوسری جانب بی جے پی کے علاوہ جموں وکشمیر کی لگ بھگ تمام اہم سیاسی جماعتوں نے اس فیصلہ کی مخالفت کی ہے ۔ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عام لوگوں کے مفادات کے خلاف ہے ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ دربار مو دونوں خطوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دربار مو کے ساتھ عام تجارت پیشہ افراد کا روزگار بھی جڑا ہوا ہے۔ لہذا یہ فیصلہ جموں وکشمیر کے عوام کے حق میں نہیں ہے ۔


جموں وکشمیر کانگریس کے سینئر لیڈر یوگیش سہانی کا کہنا ہے کہ دربار مو کے ساتھ کشمیر اور جموں خطے کے عام لوگوں کا سماجی رشتہ جڑا ہوا ہے ۔ نیوز 18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے سہانی نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ بی جے پی کا جموں و کشمیر کے بارے میں کیا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک طرف بی جے پی سرکار جموں وکشمیر کا ہندوستان کے دوسرے حصوں کے ساتھ رشتوں کو مضبوط بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے ، لیکن دوسری جانب وہ کشمیر اور جموں کے عوام کے درمیان دوری بڑھانے کے در پے ہیں ۔

پی ڈی پی کے ترجمان ڈاکٹر ہر بخش سنگھ نے دربار مو کو ختم کرنے کے سلسلے میں دیئے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کو اس بارے میں وضاحت کرنی چاہئے کہ آخر کار یہ فیصلہ لینے کی ضرورت کیوں پڑی ۔ کیونکہ بقول ان کے اس سے جموں وکشمیر کے لوگوں میں کئی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کی طرف سے بدھ کے روز ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا ، جس کے تحت یوٹی کے سول سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے ملازمین اور افسران کو سرکار کی طرف سے الاٹ کئے گئے تمام رہائشی مکانات و فلیٹ تین ہفتوں کے اندر خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس دربار مو کی منتقلی کو ختم کرنے سے سالانہ دو سو کروڑ روپے کی بچت ہوگی ، جس کو عوام کی بہبودی کے لیے استعمال میں لایا جائے گا ۔

اس سے پہلے سرکار نے اعلان کیا تھا چونکہ سول سیکریٹریٹ کا سارا ریکارڈ اب ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے ۔ لہذا سول سیکریٹریٹ سرینگر اور جموں میں بیک وقت کام کرتا رہے گا اور عام لوگوں کے مسائل کم وقت میں حل ہو جائیں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 03, 2021 09:58 PM IST