உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پونچھ میں دہشت گردوں کی ہی گولی سے مارا گیا ضیاء مصطفیٰ، کشمیری پنڈتوں کے قتل عام کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام

    پونچھ میں دہشت گردوں کی ہی گولی سے مارا گیا ضیاء مصطفیٰ

    پونچھ میں دہشت گردوں کی ہی گولی سے مارا گیا ضیاء مصطفیٰ

    Jammu and Kashmir: انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، لشکر طیبہ کا دہشت گرد ضیاء مصطفیٰ کو 2003 میں جموں وکشمیر پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اسی سال مارچ میں ہوئے کشمیری پنڈتوں کے ندی مرگ قتل عام کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا تھا۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر میں اتوار کو صبح پونچھ میں دو پولیس اہلکار اور ایک آرمی افسر دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں زخمی ہوگئے۔ گزشتہ دو ہفتے سے پونچھ ضلع کی پہاڑیوں میں واقع گھنے جنگلوں  میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم چل رہا ہے۔ اس انکاونٹر میں 11 اکتوبر سے 14 اکتوبر کے درمیان دہشت گردوں سے لوہا لیتے ہوئے 9 فومی اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب جموں وکشمیر پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’پونچھ تصادم کے دوران پاکستانی لشکر طیبہ کا دہشت گرد ضیاء مصطفیٰ کو دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لئے بھٹا دریاں لے جایا گیا تھا۔

      انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ہ سرچ آپریشن کے دوران آرمی اور پولیس کی مشترکہ ٹیم پر دہشت گردوں نے دوبارہ سے فائرنگ شروع کردی۔ اسی فائرنگ میں دو پولیس اہلکار اور آرمی کے ایک افسر زخمی ہوگئے۔ اسی فائرنگ میں دہشت گرد ضیاء مصطفیٰ بھی زخمی ہوگیا اور بھاری فائرنگ کے سبب اس کی تلاش کو جائے حادثہ سے فوراً نکالا نہیں جاسکا۔

      بعد میں پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ضیاء مصطفیٰ کی باڈی کو انکاونٹر سائٹ سے نکال لیا گیا۔ ہفتہ کو ضیاء مصطفیٰ کو پولیس 10 دنوں کے ریمانڈ پر کوٹ بلول جیل سے مینڈھر لے گئی۔ ضیاء مصطفیٰ کوٹ بلول جیل میں بند تھا، جہاں سے وہ پاکستان واقع لشکر کے لیڈروں کے ساتھ مبینہ طور پر رابطے میں تھا۔ ضیاء مصطفیٰ کو 2003 میں جموں وکشمیر پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اسی سال مارچ میں ہوئے کشمیری پنڈتوں کے ندی گرگ قتل کا ماسٹر مائنڈ مانا جاتا تھا۔

      سال 2003 میں سری نگر میں جموں وکشمیر کے اس وقت کے ڈی جی پی اے کے سوری نے 10 اپریل کو ضیاء مصطفیٰ کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ مصطفیٰ کی پریس کانفرنس میں پریڈ کرائی گئی تھی اور اس کی گرفتاری کو بڑی کامیابی بتایا گیا تھا۔ اے کے سوری نے اس وقت ضیاء مصطفیٰ کو لشکر کا ڈسٹرکٹ کمانڈر بتایا تھا، جو 24 کشمیری پنڈتوں کے قتل میں شامل تھا۔ یہ کشمیری پنڈت پلوامہ ضلع کے ندی مرگ گاوں میں اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوئے تھے، جب انہیں مارا گیا۔

      پولیس کے اس وقت کے سربراہ نے کہا تھا کہ ضیاء مصطفیٰ کے پاس سے ایک اے کے -47 رائفل، گولہ بارود، وائرلیس سیٹ اور دیگر دستاویز بھی برآمد کئے گئے تھے۔ پولیس نے کہا تھا کہ ضیاء مصطفیٰ کو وکٹر سمیت تمام ناموں سے جانا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ضیاء مصطفیٰ نے پولیس جانچ اہلکاروں کو بتایا تھا کہ اسے پاکستان واقع لشکر طیبہ کے لیڈروں نے کشمیری پنڈتوں کے قتل کو انجام دینے کے لئے کہا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: