உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں کشمیر: بجلی ملازمین کی ہڑتال جاری، جموں میں بجلی سپلائی کی بحالی کے لئے فوج کی مدد

    جموں کشمیر میں اب لازمی خدمات کے لئے بجلی سپلائی جاری رکھنے کے لئے فوج کو بلایا گیا ہے۔ ڈویژنل کمشنر جموں نے اس سلسلے میں ایک راضی نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بجلی محکمہ کے ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کے چلتے لازمی خدمات کے لئے بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، لہٰذا فوج نفری فراہم کرے، جو ضروری بجلی اسٹیشنوں اور واٹر سپلائی کا رکھ رکھاؤ کرے۔

    جموں کشمیر میں اب لازمی خدمات کے لئے بجلی سپلائی جاری رکھنے کے لئے فوج کو بلایا گیا ہے۔ ڈویژنل کمشنر جموں نے اس سلسلے میں ایک راضی نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بجلی محکمہ کے ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کے چلتے لازمی خدمات کے لئے بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، لہٰذا فوج نفری فراہم کرے، جو ضروری بجلی اسٹیشنوں اور واٹر سپلائی کا رکھ رکھاؤ کرے۔

    جموں کشمیر میں اب لازمی خدمات کے لئے بجلی سپلائی جاری رکھنے کے لئے فوج کو بلایا گیا ہے۔ ڈویژنل کمشنر جموں نے اس سلسلے میں ایک راضی نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بجلی محکمہ کے ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کے چلتے لازمی خدمات کے لئے بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، لہٰذا فوج نفری فراہم کرے، جو ضروری بجلی اسٹیشنوں اور واٹر سپلائی کا رکھ رکھاؤ کرے۔

    • Share this:
    سری نگر: جموں کشمیر میں اب لازمی خدمات کے لئے بجلی سپلائی جاری رکھنے کے لئے فوج کو بلایا گیا ہے۔ ڈویژنل کمشنر جموں نے اس سلسلے میں ایک راضی نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بجلی محکمہ کے ملازمین کے کام چھوڑ ہڑتال کے چلتے لازمی خدمات کے لئے بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، لہٰذا فوج نفری فراہم کرے، جو ضروری بجلی اسٹیشنوں اور واٹر سپلائی کا رکھ رکھاؤ کرے۔

    دوسری جانب، جموں وکشمیر میں پاور انجینئرس اینڈ ایمپلائزکو آرڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے کام چھوڑ کر ہڑتال آج دوسرے روز میں داخل ہوئی۔ کشمیر میں بمنہ سری نگر میں ملازمین کی بڑی جمعیت آج بھی احتجاج کرتی رہی۔ کئی علاقوں سے بجلی کی فراہمی میں پریشانیوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ سری نگر کے حبہ کدل میں کل دیر رات بجلی نہ ملنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ کام چھوڑ کر ہڑتال پر بیٹھے ملازمین نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ بجلی کی سپلائی میں کسی بھی خرابی کو وہ دور نہیں کریں گے جب تک  ان کے مطالبات پورے نہ کئے جائیں۔ پاور انجینئرس اینڈ ایمپلائزکوآرڈی کمیٹی نے سرکار کے سامنے چار مطالبات رکھے ہیں جن میں پاور گرڈ کے ساتھ جوائنٹ ونچر کو کالعدم کرنے، عارضی ملازمین کی مستقلی اور تنخواہیں سرکاری خزانہ سے جاری کرنے مطالبہ شامل ہے۔

    ہڑتال پر بیٹھے ملازمین نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ بجلی کی سپلائی میں کسی بھی خرابی کو وہ دور نہیں کریں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہ کئے جائیں۔
    ہڑتال پر بیٹھے ملازمین نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ بجلی کی سپلائی میں کسی بھی خرابی کو وہ دور نہیں کریں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہ کئے جائیں۔


    دوسری جانب، جموں وکشمیر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ہڑتال پرگئے ملازمین کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کررہی ہے اور ڈائریکٹر انفارمیشن نے کہا ہے کہ ملازمین سے بات بھی ہوئی اور ان سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی گئی، لیکن ملازمین لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ انتظامیہ سے ان مطالبات پر ٹھوس اقدامات کئے جانے تک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ آل انڈیا الیکٹرک  ایمپلائزکوآرڈی نیشن کمیٹی نے بھی جموں وکشمیر کے ہڑتالی ملازمین کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ان کے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے۔

    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: