உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کے خلاف احتجاج

    جموں و کشمیر : سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کے خلاف احتجاج

    جموں و کشمیر : سرینگر میں عام شہریوں کے قتل کے خلاف احتجاج

    لال چوک میں شمع مارچ کے دوران کشمیر سوسائٹی نامی تنظیم کے صدر فاروق رنزو نے کہا کہ کشمیر ریشیوں منیوں کی سر زمین ہے اور یہاں پر قتل و غارت کا یہ سلسلہ فوری طور بند ہونا چاہئے۔

    • Share this:
    سرینگر : لال چوک سرینگر کے تاریخی گھنٹہ گھر پر منگل کی شام درجنوں شمع روشن کرکے کشمیر میں عام شہریوں کے مسلسل قتل کے واقعات پر احتجاج کیا گیا۔ آخر کب تک نامی تنظیم کے بینر تلے کچھ لوگ جمع ہوئے اور عام انسانوں کے قتل کے خلاف اپنی تشویش اور غصے کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ کل رات کو محمد ابراہیم نامی ایک شخص کو ڈاون ٹاون سرینگر کے بہوری کدل علاقے میں گولی مار دی گئی ۔ انھیں زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہیں ہوسکے۔ مارا گیا شخص پیشے سے ایک سیلزمین تھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کشمیری پنڈت کی دُکان پر کام کرتا تھا۔ یہ سرینگر میں چوبیس گھنٹے میں ایسی دوسری واردات تھی۔ اس سے پہلے بٹہ مالو میں اتوار شام کو ایک پولیس اہلکار کو اُس کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی ۔

    لال چوک میں شمع مارچ کے دوران کشمیر سوسائٹی نامی تنظیم کے صدر فاروق رنزو نے کہا کہ کشمیر ریشیوں منیوں کی سر زمین ہے اور یہاں پر قتل و غارت کا یہ سلسلہ فوری طور بند ہونا چاہئے۔ انھوں نے صوفی روایات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو صوفیوں نے امن کا گہوارا بنا دیا لیکن بندوق نے اسے جہنم بنادیا ہے۔

    اُدھر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلٰی عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی لیڈروں نے عام شہری کے قتل کی مذمت کی ہے۔ کشمیر میں پہلی اکتوبر سے  نو نومبر تک 13 افراد کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے ، جن میں سے پانچ بیرون جموں کشمیر کے مزدور تھے۔

    حالانکہ پولیس نے جھڑپوں میں کمانڈروں سمیت کئی ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا اور کئی ایک کے بارے میں یہ دعوٰی کیا کہ وہ عام شہریوں کے قتل میں ملوث تھے ۔ لیکن اس کے بعد بھی ان کاروائیوں کا سلسلہ کہیں تھمتا نظر نہیں آرہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: