ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : 'تبھی روئی جب قاتل چلے گئے' ، SPO فیاض کی بہو نے سنائی دہشت گردوں کی بربریت کی کہانی

Awantipora Terror Attack : اونتی پورہ گاوں کے ہری پریگم میں دہشت گردوں نے اسپیشل پولیس افسر 50 سالہ فیاض احمد بھٹ کے پورے کنبہ کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔ بھٹ اور ان کی اہلیہ نے موقع پر ہی دم توڑدیا جبکہ ان کی بیٹی کی پیر کو اسپتال میں موت ہوگئی ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : 'تبھی روئی جب قاتل چلے گئے' ، SPO فیاض کی بہو نے سنائی دہشت گردوں کی بربریت کی کہانی
جموں و کشمیر : 'تبھی روئی جب قاتل چلے گئے' ، SPO فیاض کی بہو نے سنائی بربریت کی کہانی ۔ علامتی تصویر ۔

پلوامہ : جموں و کشمیر کے پلوامہ میں دہشت گردوں کی بربریت کا شکار ہوئے کنبہ کی بیٹی نے بھی گزشتہ روز کو اسپتال میں دم توڑدیا ۔ گزشتہ اتوار کو رات گیارہ بجے پولیس افسر فیاض احمد بھٹ کے گھر میں شروع ہوئے خونی کھیل کی کہانی دلا دہلادینے والی ہے ۔ گھر کے بڑوں کی بات تو دور ، دہشت گردوں نے ماں کی گود میں لیٹے 10 مہینے کے بچے کو بھی نہیں چھوڑا اور لات مار کر زمین پر گرادیا ۔


اونتی پورہ گاوں کے ہری پریگم میں دہشت گردوں نے اسپیشل پولیس افسر 50 سالہ فیاض احمد بھٹ کے پورے کنبہ کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اے کے 47 رائفل لے کر دہشت گرد چہرہ پر ڈھک کر بھٹ کے گھر پہنچے تھے ۔ دروازہ کھولنے کے بعد سب سے پہلی گولی بھٹ کو لگی ، اس کے بعد ان کی اہلیہ کو نشانہ بنایا گیا ۔ ماں باپ کو بچانے کی کوشش کررہی 21 سال کی بیٹی رفیقہ جان کو بھی گولی ماردی گئی ۔


اس دوران بھٹ کی بہو صائمہ اپنے بچے کو لئے ہوئے تھیں ۔ دہشت گردوں نے انہیں اور بچے کو لات ماری اور بھاگنے پر مجبور کیا ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق صائمہ بتاتی ہیں کہ میں نے جان کی بھیک مانگی ، لیکن انہوں نے بچے کو بھی چھوڑا ۔ اپنے اہل خانہ کی طرح گولی مارے جانے کے ڈر سے میں نے چیخنے کی ہمت نہیں کی ، میں اپنے بچے کو اٹھانے کے بعد دوسرے کمرے میں بھاگی اور قاتلوں کے جانے کے بعد ہی روئی ۔


صائمہ کے شوہر لیاقت فیاض فوج میں ہیں اور پلوامہ کے کھرو میں تعینات ہیں ۔ ادھر کنبہ پر حملہ ہورہا تھا اور وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے ۔ بیوی سے فون پر بات کرنے کے بعد جب وہ گھر پہنچے تو ان کے ماں باپ کی موت ہوچکی تھی اور چھوٹی بہن زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی ۔ حملہ آور جیش محمد کے دہشت گرد تھے ۔ ان میں سے ایک کی شناخت پاکستانی کے طور پر ہوئی ہے ۔

بھٹ کے گھر پہنچے کشمیر رینج کے آئی جی پی وجے کمار بتاتے ہیں کہ ایک حملہ آور کوشور بول رہا تھا اور دوسرا اردو میں ترجمہ کررہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علاقہ میں جیش کے دہشت گردوں کی جانکاری ملی ہے اور اس بات کے ثبوت مل رہے کہ ایک شخص پاکستانی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 29, 2021 11:55 PM IST