ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں میوہ صنعت کو فروغ دینے کی نئی پہل ، کاشتکار اب جدید ٹیکنالوجی کر رہے ہیں متعارف

وادی کشمیر میں میوہ صنعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے ۔ سیب کی اعلی کوالیٹی کے لیے جہاں کشمیر کو پوری دُنیا میں جانا جاتا ہے ۔ وہیں صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کئےجارہے ہیں ۔

  • Share this:
کشمیر میں میوہ صنعت کو فروغ دینے کی نئی پہل ، کاشتکار اب جدید ٹیکنالوجی کر رہے ہیں متعارف
کشمیر میں میوہ صنعت کو فروغ دینے کی نئی پہل ، کاشتکار اب جدید ٹیکنالوجی کر رہے ہیں متعارف

وادی کشمیر میں میوہ صنعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے ۔ سیب کی اعلی کوالیٹی کے لیے جہاں کشمیر کو پوری دُنیا میں جانا جاتا ہے ۔ وہیں صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کئےجارہے ہیں ۔ چار سال قبل اُس وقت کی حکومت نے سیب کی پیداوار میں جدیدیت لانے کے لیے Hi density پروگرام شروع کیا تھا ،  جس کے تحت میوہ باغات میں روایتی سیب کے درختوں کے بدلے hi density  کو متعارف کرایا گیا تھا ۔ اگرچہ پہلے اس سکیم کے تحت بہت میوہ کاشتکار اس پر میوہ باغات میں عمل کرنے میں اس قدر دلچسپی نہیں دکھا رہے تھے ۔ تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران hi  density کی طرف کاشتکار راغب ہورہے ہیں ، جس کی وجہ سے سیب کی پیداوار اور سیب کی نئے قسمیں وادی میں متعارف ہوئی ہیں ۔


تاہم وہاں بہتر گریڈنگ نہ ہونے اور ملک کی مختلف فروٹ منڈیوں میں سیب کی قیمتوں میں کافی کمی آنے کی وجہ سے میوہ کاشتکاروں کو ہرسال مالی نُقصان کا سامنا ہورہا ہے  ۔  آج تک گریڈنگ صرف کولڈ اسٹوریج میں ہی دستیاب ہوا کرتی تھی ۔ تاہم اب ضلع پلوامہ کے دربگام علاقہ سے تعلق رکھنے والے کُچھ میوہ کاشتکاروں نے ایک بہتر گریڈنگ کا آغاز کیا ہے ۔ کُچھ میوہ کاشتکاروں نے اس پہل کے تحت گریڈنگ میشین کو اپنے میوہ باغات میں ہی نصب کردیا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ایسی پہل ہے ، جس کے تحت میوہ باغات میں ہی اب گریڈنگ کی جارہی ہے ۔


دربگام پلوامہ کے کاشتکار ڈاکٹر نثار احمد کا ماننا ہے کہ پوری دُنیا میں اس وقت مارکٹنگ کے حوالے سے بڑا چلینج ہے اور بیرونی ممالک اس میں کافی آگے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس میں بھی کافی ترقی یافتہ ہورہے ہیں ۔ اس  لیے کشمیر کیلئے اعلی کوالیٹی والے سیب اور دیگر میوہ جات کے لیے بہتر مارکٹنگ کرنا اب لازمی ہوگیا ہے ۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ گریڈنگ کے لیے اب میوہ کاشتکاروں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ، جس سے کشمیر کے میوے کو بھی ملک کی مختلف منڈیوں میں بہتر مارکیٹ حاصل ہو ۔


خیال رہے کہ ضلع پلوامہ کو سیب اور دیگر میوے کی پیداوار میں کلیدی اہمیت حاصل ہے ، لیکن بہتر گریڈنگ اور مارکیٹنگ نہ ہونے سے قیمتوں میں کمی آرہی ہے ۔ تاہم اب کاشتکاروں کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے لگتا ہے کہ میوہ صنعت کو کافی فروغ حاصل ہوگا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 08, 2020 08:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading