உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News : عدالت نے 11 برس کے بعد قتل کیس میں دو افراد کو سنائی عمر قید کی سزا

    J&K News : عدالت نے 11 برس کے بعد قتل کیس میں دو افراد کو سنائی عمر قید کی سزا

    J&K News : عدالت نے 11 برس کے بعد قتل کیس میں دو افراد کو سنائی عمر قید کی سزا

    Pulwama News : پلوامہ میں ایک نوجوان کے بہیمانہ قتل اور لوٹ کی واردات میں ملوث ملزمین کو عدالت نے گیارہ برس بعد عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔

    • Share this:
    پلوامہ : پلوامہ میں ایک نوجوان کے بہیمانہ قتل اور لوٹ کی واردات میں ملوث ملزمین کو عدالت نے گیارہ برس بعد عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع پلوامہ کے ببہارا گاوں کے خورشید احمد وانی نامی نوجوان کا بہیمانہ قتل گیارہ برس قبل انجام دے کر لاش کو چھپایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر پولیس کے تھانہ پلوامہ میں کیس درج کرکے جانچ شروع کردی گئی تھی ۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے لاش کو نزدیک کے ایک گاوں سے گھاس کے نیچے سے برآمد کی ۔ جس کے بعد قتل کی جانچ کے دوران تین افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ جوکہ قتل کی واردات میں ملوث تھے ۔

    تینوں افراد پر سیشن کورٹ پلوامہ میں دفعہ 302 اور لوٹ مار کا کیس شروع کردیا گیا ۔ گیارہ برس تک چلے اس کیس کے دوران پلوامہ کورٹ میں چالیس گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔ فروری کی چار تاریخ کو پرنسپل سیشن جج پلوامہ عبدالرشید ملک نے قتل میں ملوث سمیر احمد شیخ جوکہ دیری پلوامہ کا رہنے والا ہے اور ببہارا پلوامہ کے رہنے والے جاوید احمد شاہ کو مجرم قرار دیا ۔ جبکہ تیسرے ملزم کو عدالتی گواہ بننے پر عدالت نے رہا کردیا ۔ قتل اور لوٹ مار کی واردات کو انجام دینے والے دونوں ملزمین کو عدالت نے دفعہ 302 کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔

    کیس کے اسپیشل پبلک پراسکیوٹر غلام محی الدین ڈار نے نیوز 18 اردو کے نمائندے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین نے خورشید نے پچیس ہزار روپے کی رقم لوٹ کر اس کا قتل کیا تھا ۔ عدالت نے دونوں ملزمین کو جہاں عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ وہیں متاثرین کو دو لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کے احکامات بھی صادر کئے ہیں ۔

    مقتول خورشید احمد کے دادا غلام احمد جوکہ سابق پولیس افسر ہیں ، نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے اگرچہ ان کا بچہ واپس نہیں آئے گا، لیکن گیارہ برس کے بعد انہیں سیشن کورٹ پلوامہ سے انصاف فراہم ہوا ہے ۔ انہوں نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے علاوہ پولیس کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: