ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : راجوری میں ڈرون اور ان کھلونوں پر عائد کی گئی پابندی ، جانئے کیا ہے وجہ

Jammu and Kashmir News : حکم نامے کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہم فوجی تنصیبات اور آبادی والے علاقوں میں فضائی اسپیس کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ ڈرون اور فضا میں اڑائے جانے والے کھلونوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : راجوری میں ڈرون اور ان کھلونوں پر عائد کی گئی پابندی ، جانئے کیا ہے وجہ
جموں و کشمیر : راجوری میں ڈرون اور ان کھلونوں پر عائد کی گئی پابندی ، جانئے کیا ہے وجہ ۔ علامتی تصویر ۔

جموں : ضلع مجسٹریٹ راجوری نے ڈرونز اور فضا میں اڑائے جانے والے دوسرے کھلونوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز جاری کئے جانے والے ایک حکم نامے میں کہا کہ قوم دشمن عناصر یونین ٹریٹری کے بعض علاقوں میں ڈرونز اور فضا میں اڑئے جانی والی چیزوں کا استعمال کر کے لوگوں کو مالی و جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


موصوف ضلع مجسٹریٹ کا یہ حکم نامہ اس وقت سامنے آیا ہے ، جب جموں شہر کے فوجی علاقوں میں گذشتہ چار روز سے ڈرونز کو مسلسل گردش کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دس پندرہ برسوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی و ثقافتی محفلوں میں ویڈیو اور فوٹو کھینچنے کے لئے چھوٹے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے اور نوجوان طبقہ خاص طور پر ڈرون جیسے کھلونوں کا استعمال کرنے کا شوقین ہے'۔



حکم نامے کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہم فوجی تنصیبات اور آبادی والے علاقوں میں فضائی اسپیس کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ ڈرون اور فضا میں اڑائے جانے والے کھلونوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔ ضلع مجسٹریٹ نے حکم نامے میں کہا ہے کہ جن لوگوں کے پاس ڈرون اور ہوا میں اڑائے جانے والے کھلونے ہیں وہ انہیں پولیس کے حوالے کر دیں۔ ایس ایس پی راجوری سے کہا گیا ہے کہ وہ اس حکم نامے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

جموں کے کالو چک اور کنجونی میں پھر اڑتے نظر آئے 2 ڈرون

دریں اثنا بدھ کو صبح صبح جموں کے کالو چک اور کنجونی میں 2 ڈرون دیکھے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ اسے لے کر سیکورٹی اہلکار محتاط ہیں۔ حالانکہ ابھی اس حادثہ سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے پہلے پیر کو فوج کے جوانوں نے رتنوچک - کالوچک اسٹیشن کے اوپر اڑ رہے دو ڈرون پر گولہ باری کی تھی، جو بعد میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ افسران کے مطابق، ایک ڈرون اتوار کی دیر شب پونے 12 بجے اور دوسرا ڈرون دو بجکر 40 منٹ پر دیکھا گیا تھا۔ فوجیوں کے گولیاں چلانے کے بعد وہ وہاں سے اڑ گئے۔ سال 2002 میں یہاں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، جس میں 10 بچوں سمیت 31 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 30, 2021 04:53 PM IST