اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جموں وکشمیر نے زرعی شعبہ میں ماہانہ آمدنی کے زمرے میں ملک میں تیسرا مقام حاصل کیا، یوٹی میں حاصل کیا پانچواں نمبر

    جموں وکشمیر کے محکمہ زراعت اور نیشنل بینک فارایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نبارڈ) نے مشترکہ طور پر 25,991 کروڑ روپئے کے ترقیاتی پیکج کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ زراعت کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ قرض کی آسان طریقے سے دستیابی کے ذریعے باغبانی اور زراعت کے شعبے میں کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    جموں وکشمیر کے محکمہ زراعت اور نیشنل بینک فارایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نبارڈ) نے مشترکہ طور پر 25,991 کروڑ روپئے کے ترقیاتی پیکج کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ زراعت کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ قرض کی آسان طریقے سے دستیابی کے ذریعے باغبانی اور زراعت کے شعبے میں کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    جموں وکشمیر کے محکمہ زراعت اور نیشنل بینک فارایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نبارڈ) نے مشترکہ طور پر 25,991 کروڑ روپئے کے ترقیاتی پیکج کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ زراعت کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ قرض کی آسان طریقے سے دستیابی کے ذریعے باغبانی اور زراعت کے شعبے میں کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنایا جا سکے۔

    • Share this:
    جموں: جموں وکشمیر کے محکمہ زراعت اور نیشنل بینک فارایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نبارڈ) نے مشترکہ طور پر 25,991 کروڑ روپئے کے ترقیاتی پیکج کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ زراعت کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ قرض کی آسان طریقے سے دستیابی کے ذریعے باغبانی اور زراعت کے شعبے میں کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ جامع منصوبہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے وزیر اعظم کے نظریہ کے مطابق ہے۔

    جموں و کشمیر حکومت بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل اور فینانسنگ کے خلا کو پر کر کے اپنی پوری صلاحیت کو کھولنے کے لیے دیہی معیشت کی ترقی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں نابارڈ دیہی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت بنیادی ڈھانچے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے دیہی معیشت کا ایک اہم محرک رہا ہے جس کے تحت گزشتہ 26 برسوں میں 8457 کروڑ روپئے کی لاگت سے 4178 منصوبے مکمل کئے گئے ہیں، جن میں بنیادی طور پر آبپاشی پر توجہ مرکوزکی گئی ہے۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (NABARD) کے پاس 34,829 کروڑ کا ممکنہ لنکڈ کریڈٹ پلان ہے جو دیہی آبادی کی امنگوں کو پورا کرنے، دیہی انفراسٹرکچر میں موجود خلا کو ختم کرنے اور زرعی معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے کوآپریٹو کریڈٹ سسٹم کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ کریڈٹ پلان کا اعلان جموں میں نابارڈ کے ذریعہ منعقدہ یوٹی کریڈٹ اینڈ ڈیولپمنٹ سیمینار میں کیا گیا۔

    جموں و کشمیر میں NABARD کے ذریعے 36 فارمر پروڈیوسر تنظیمیں بنائی گئی ہیں، جن سے تقریباً 6000 کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔رواں مالی سال میں اس طرح کی 26 مزید تنظیمیں قائم کی جا رہی ہیں، جو UT میں جدید زراعت اور باغبانی کی مضبوط بنیاد کی ترقی کو آگے بڑھا رہی ہیں۔جموں و کشمیر نے کسان کریڈٹ کارڈز، سوائل ہیلتھ کارڈز اور پی ایم کسان سمان ندھی میں سیچوریشن حاصل کرنے کے علاوہ دھان کی 70 کوئنٹل فی ہیکٹر پیداوار کے ساتھ پورے ملک میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے۔

    حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جموں و کشمیر زراعت کے گھرانوں کی ماہانہ آمدنی میں تیسرے نمبر پر ہے اور زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے UT میں پانچویں نمبر پر ہے۔جموں و کشمیر کی حکومت جدید پائیدار اور جامع زرعی اقدامات سے کسانوں کو زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے خصوصی زرعی نظریہ پر کام کر رہی ہے۔

    جموں و کشمیر انتظامیہ کا مشن سال 2023 کے آخر تک یوٹی کے کسانوں کی زندگیوں میں مکمل تبدیلی اور جدید زراعت میں تبدیلی لانا ہے۔حکومت نے جموں و کشمیر کے زرعی شعبے کو مزید فعال بنانے کے لیے مارکیٹنگ کے کئی اقدامات بھی شروع کئے ہیں۔ زعفران کے لیے جی آئی ٹیگنگ نے بین الاقوامی منڈی میں کشمیر کے زعفران کو نمایاں ترقی دی ہے۔اور چاول کی مارکیٹنگ ویلیو میں بھی اضافہ کیا ہے۔ یہاں زرعی شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیےمحکمہ زراعت نے بھی ایمیزون فریش کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے شمالی ہندوستان میں نیٹ ورک کو پھیلانے کے مقصد سے جموں میں دستیاب پھلوں اور سبزیوں کی درجہ بندی میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    آئندہ سال جموں میں ایک کلیکشن سنٹر بھی بننے جا رہا ہے۔کشمیری زعفران کو مارکیٹ فراہم کرنے کے لیےنیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا (NAFED) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کشمیری زعفران کو ملک بھر میں اپنے تمام آؤٹ لیٹس پر فروخت کرے گا۔اس طرح کسانوں کو اپنی پیداوار کو مناسب قیمتوں پر فروخت کرنے کا ایک اور متبادل ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: