உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : سیاسی پارٹیوں نے فاروق عبد اللہ کے بیان کو بتایا مثبت، جانئے نیشنل کانفرنس کے صدر نے کیا کہا تھا

    جموں و کشمیر : سیاسی پارٹیوں نے فاروق عبد اللہ کے بیان کو بتایا مثبت، جانئے کیا کہا تھا

    جموں و کشمیر : سیاسی پارٹیوں نے فاروق عبد اللہ کے بیان کو بتایا مثبت، جانئے کیا کہا تھا

    Jammu and Kashmir News : نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبد اللہ کے بیان کو جہاں زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے ایک مثبت بیان سے تعبیر کیا ہے تو وہیں سیاسی تجزیہ نگارہوں کا ماننا ہے کہ اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ نیشنل کانفرنس بنیادی سطح پر اپنی مظبوطی محسوس کر رہی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں و کشمیر : نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے دئیے گئے اس بیان کہ ان کی پارٹی نے دو ہزار اٹھارہ کے پنچائیتی انتخابات میں شرکت نہ کرکے بڑی غلطی کی ہے ، کے بارے میں مختلف سطحوں پر رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ جہاں زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے اسے ایک مثبت بیان سے تعبیر کیا ہے تو وہیں سیاسی تجزیہ نگارہوں کا ماننا ہے کہ اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ نیشنل کانفرنس بنیادی سطح پر اپنی مظبوطی محسوس کر رہی ہے ۔ سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان ظاہر کر تا ہے کہ نیشنل کانفرنس کو رواں برس کے اوائل میں منقدہ ڈی ڈی سی الیکشن نتائج سے کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔

    نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ ڈی ڈی سی الیکشن میں بہتر کارکردگی سے پارٹی کی لیڈرشپ کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ زمینی سطح پر پارٹی کی پوزیشن دیگر جماعتوں کے مقابلہ میں مستحکم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے پنچایتی انتخابات میں بحثیت پارٹی شمولیت نہیں کی تھی تاہم ان انتخابات میں بھی اس جماعت کی طرف سے درپردہ امیدوار  انتخابی میدان میں اتارے گئے تھے اور پارٹی کے ورکروں اور ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا ۔

    محمد سعید ملک نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا بیان اس بات کا مظہر بھی ہے کہ  پارٹی جموں و کشمیر میں اپنے ورکروں تک یہہ پیغام پہنچانا چاہتی ہے کہ وہ سرگرم رہیں ۔ تاکہ جموں و کشمیر میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے ۔ محمد سعید ملک نے کہا کہ نیشنل کانفرنس دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ دہرا کر اپنے ورکروں کو سیاسی طور پر مظوط بنانے کی تگ و دو میں ہے ۔ تاکہ وہ بنیادی سطح پر ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرسکیں ۔ کیونکہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر میں  جلد از جلد اسمبلی انتخابات منعقعد کروانے کے حق میں ہے ۔

    ادھر کئی سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے تازہ بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے دیر آئد درست آئد سوچ کے مترادف قرار دیا ہے ۔ بی جے پی کے جموں و کشمیر کے ترجمان بلبیر رتن نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ  ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ وہ کھوکھلے نعرے بلند کرکے عوامی رائے حاصل نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو یہ بات سمجھ میں آچکی ہے کہ اسے بنیادی سطح پر ہورہی سیاسی تبدیلیوں کو ملحوظ رکھ کر ہی آگے بڑھنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے یہ قبول کرنا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے ، ایک مثبت سوچ کی عکاس ہے ، بھارتیہ جنتا پارٹی اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔

    جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے جنرل سکریٹری وکرم ملہوترا کا کہنا ہے کہ فاروق عبداللہ کی جانب سے جاری کیا گیا یہ بیان جے کے اے پی کی اس سوچ کی تائید کرتا ہے کہ جمہوری نظام میں ہر سیاسی پارٹی کو بات چیت کے ذریعہ جمہوری طریقے سے ہر مسئلے کا حل نکالنے کی راہ اختیار کرنی چاہئے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے وکرم ملہوترا نے کہا کہ  آج ان سیاسی جماعتوں کو یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ لوگوں کے مسائل کا حل جمہوری عمل میں شرکت کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور چند دیگر سیاسی پارٹیوں نے ماضی میں دہلی کو ڈرانے والی پالیسی اختیار کی تھی ، جو موجودہ دور میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے جمہوری عمل میں بھر پور شرکت کریں۔

    جموں و کشمیر پینتھرس پارٹی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے فاروق عبداللہ کے اس بیان کو ایک مثبت تبدیلی سے تعبیر کیا ہے۔ نیوز18 اردو سے بات کرتے ہوئے ہرش دیو سنگھ نے کہا کہ تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں شرکت کرکے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ  ڈاکٹر  فاروق عبداللہ اس بیان کے بعد  وہ تمام سیاسی جماعتیں بھی جموں و کشمییر میں جمہوریت کو مظبوط کرنے کے لئے  جمہوری مل میں شریک ہوجائیں گی جو ماضی میں کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر اس عمل سے دور رہنے کی دھمکیاں دیتی رہی ہیں ۔

     
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: