ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں کشمیرمیں بلیک فنگس سے پہلی موت،عوام میں تشویش کی لہر،ماہرین نے احتیاطی تدابیر اپنانے پردیازور

جموں کشمیر میں بلیک فنگس سے پہلی موت ریکارڈ ہوئی ہے جس کے بعدلوگوں میں فکر و تشویش کی لہر دیکھی جارہی ہے اور طبی ماہرین نے احتیاطی تدابیر اپنانے پر زوردیا ہے۔

  • Share this:
جموں کشمیرمیں بلیک فنگس سے پہلی موت،عوام میں تشویش کی لہر،ماہرین نے احتیاطی تدابیر اپنانے پردیازور
جموں کشمیر میں بلیک فنگس سے پہلی موت ریکارڈ ہوئی ہے

جموں کشمیر میں عام لوگ ابھی کووڈ وبا سے پیدا شدہ پریشان کن حالات سے لڑ ہی رہےہیں کہ بلیک فنگس نامی نئی بیماری نے یو ٹی میں دستک دی ہے۔ کووڈ وبا کی دوسری لہر کے بعد جموں صوبے میں بلیک فنگس سے پہلی موت واقع ہوئی ہے۔ اس فنگس سے متاثرہ پہلے معاملے کی تصدیق جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال میں ہوئے ہے۔


تفصیلات کے مطابق کووڈ سے متاثرہ ایک 40 سالہ شخص میں 20 می کی شام کو بلیک فنگس کی علامات دیکھی گئی۔ جموں میڈیکل کالج کے پرنسپل، ڈاکٹر ششی سودھن کے مطابق یہ مریض چند روز قبل کووڈ کے علاج و معالجہ کےلئے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ۔ اگرچہ اس مریض کی کووڈ رپورٹ منفی آئی ہے تاہم اس میں کل بلیک فنگس انفیکشن کی تصدیق ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مریض ضیابطیس میں بھی مبتلا ہے اور اسکی بلڈ شوگر لیول 900 ہو گئی تھی جو کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریض کو کووڈ علاج کے دوران لازمی اسٹیریورایڈس دی گی گئی جسکی وجہ سے شاید انکی قوت مدافعت کم ہو گئی اور وہ بلیک فنگس کا شکار ہو گئے اور آج دوران علاج وہ فوت ہوگئے ۔



ملک کے سرکردہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس کا خطرہ زیادہ تر کم قوت مدافعت رکھنے والے مریضوں میں زیادہ رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاہم ہر کووڈ مریض کو بلیک فنگس کا خطرہ نہیں رہتا ۔ ماہرین کے مطابق ضیابطتیس میں مبتلا جو مریض کووڈ کا شکار ہوتے ہیں انہیں اس بیماری سے بچانے کے لیے اسٹیریورایڈس دینا لازمی بن جاتا ہے، نتیجے کے طور پر انکی ایمونٹی لیول کم ہو جاتی ہے اور ان میں سے کئ افراد کو بلیک فنگس کے انفیکشن کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اسکے علاؤہ کینسر ، ذہنی امراض کے مریضوں نیز ان افراد میں بھی بلیک فنگس کا بھی خطرہ رہتا ہے جنکے اعضاء ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہو۔ کیونکہ انکی بیماری پر قابو پانے کےلئے ایمونو سپریسنٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جسکے باعث انکی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور بلیک فنگس انہیں شکار بنا لیتا ہے۔

بیماری کی علامات میں آنکھوں کے پاس چہرے میں سوجھن ، آنکھوں میں بینائی کا کم ہونا، ناک سے خون یا کالے رنگ کا مایع بہنا شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی علامت کو دیکھ کر فوری طور پر طبی مشورہ لینا بے حد ضروری ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فنگس سپورس کی صورت میں ماحول میں موجود رہتا ہے اور موقع ملنے پر کم مدافعت والے شخص کو اپنا شکار بنا لیتا ہے۔ ماہرین عام لوگوں خاص طور پر کووڈ سے صحتیاب ہونے والے ضیابطیس کے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کےلئے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور بغیر ڈاکٹری صلاح کے اسٹیریورایڈس لینے سے گریز کریں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 21, 2021 08:32 PM IST