உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں : سوچت گڑھ میں سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے اکتوبر سے ریٹریٹ تقریب کا ہوگا انقعاد

    جموں : سوچت گڑھ میں سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے اکتوبر سے ریٹریٹ تقریب کا ہوگا انقعاد

    جموں : سوچت گڑھ میں سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے اکتوبر سے ریٹریٹ تقریب کا ہوگا انقعاد

    Jammu and Kashmir News : ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم جموں نے حال ہی میں سیاحتی مقامات کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی ہیں اور دنیا بھر سے سیاحوں کو جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور قدرتی خوبصورتی کو دیکھنے کی دعوت دی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں : سوچت گڑھ کی ترقی کیلئے سرحدی باشندے کئی دہائیوں سے اس علاقہ میں سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں ۔ تاہم اب لگتا ہے کہ ان کا مطالبہ پورا ہونے والا ہے  ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق امرتسر کی واگہہ بارڈر کی طرز پر ہندوستانی اور پاکستانی سرحد کی صفر لائن پر سوچت گڑھ کی ترقی کے دہائیوں پرانے مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے اکتوبر سے روزانہ 'ریٹریٹ تقریب' منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی طرف سے واگہہ بارڈر جیسی کوئی تقریب نہیں ہوگی ۔ تاہم بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکار روزانہ 'ریٹریٹ تقریب' کا اہتمام کریں گے ۔ تاکہ سیاحوں کو سرحدی پٹی کی طرف راغب کیا جا سکے ۔

    سوچت گڑھ جموں ضلع کی آر ایس پورہ تحصیل کا آخری گاؤں ہے ، جو پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد کو جوڑتا ہے ۔ جموں سے آر ایس پورہ کا فاصلہ 17 کلومیٹر ہے اور آر ایس پورہ سے سوچت گڑھ کا فاصلہ 11 کلومیٹر ہے ۔ جموں سے سوچت گڑھ بارڈر کا کل فاصلہ 28 کلومیٹر ہے اور جموں ایئرپورٹ سے یہ 22 کلومیٹر ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم جموں کی طرف سے سرحد کے قریب واقع سوچت گڑھ میں 'ریٹریٹ تقریب' کے لیے ضروری انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے اور بارڈر ٹورزم پراجیکٹ کے تحت ایک ریستوران کے علاوہ بیٹھنے کا انتظام ، پارک اور دیگر سہولیات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

    ایک عہدیدار نے یقین دلایا کہ 'ریٹریٹ تقریب' شروع کرنے کے لیے تمام تیاریاں کرلی گئی ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے افتتاح کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے ، لیکن یہ یقینی ہے کہ آنے والے مہینے میں کیا جائے گا ۔ 'ریٹریٹ تقریب' کا افتتاح اکتوبر کے مہینے میں کیا جائے گا ، لیکن حتمی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے ۔

    سوچت گڑھ کی دوسری جانب پاکستان کا پہلا شہر سیالکوٹ ہے جو کہ سوچت گڑھ سے صرف 11 کلومیٹر دور ہے ۔ جموں اور سیالکوٹ کے درمیان ریل سروس 1897 میں شروع کی گئی تھی۔ یہ جموں و کشمیر کا پہلا ریلوے روٹ تھا ، جو زیادہ تر تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔ تقسیم ہند سے پہلے دونوں اطراف کے لوگ اس ریل روڈ سے لاہور اور اس کے بعد سفر کرتے تھے۔

    بتادیں کہ ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم جموں نے حال ہی میں سیاحتی مقامات کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی ہیں اور دنیا بھر سے سیاحوں کو جموں و کشمیر کا دورہ کرنے اور قدرتی خوبصورتی کو دیکھنے کی دعوت دی ۔ ڈائریکٹوریٹ آف ٹورزم  جموں نے دہلی کی انفراسٹرکچر کنسلٹنسی کمپنی روڈربھیشیک انٹرپرائزز لمیٹڈ کو جموں خطے میں سیاحت کے منصوبوں کی ترقی کے لیے تکنیکی مشیر مقرر کیا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: