உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مزدور پیشہ افراد بھی مایوس

    جموں و کشمیر : بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مزدور پیشہ افراد مایوس

    جموں و کشمیر : بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مزدور پیشہ افراد مایوس

    جموں و کشمیر کے لوگ بھی پٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص متوسط ​​اور غریب طبقے کے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا ہڑتا ہے۔

    • Share this:
    جموں: جموں و کشمیر کے لوگ بھی پٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں  روز بروز اضافہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص متوسط ​​اور غریب طبقے کے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا ہڑتا ہے۔ اس طرح وہ چاہتے ہیں کہ حکومت موثر اقدامات کرے تاکہ صارفین کو اس پریشانی سے کچھ راحت فراہم کرے۔ ملک کے باقی حصوں کی طرح، پٹرول اور ڈیژل جیسی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ 8 دنوں میں 7 ویں اضافہ دیکھا گیا۔ اب جموں میں 29 مارچ کو پٹرول کی قیمت 100.29 ہے اور ڈیژل فی لیٹر 84.40 روپئے میں فروخت ہو رہا ہے۔ کھانا پکانے والی گیس کی قیمتوں میں حال ہی میں 50 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 949 روپئے میں فی سلنڈر  فروخت ہو رہا ہے۔

    پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے بھی بہت زیادہ مسائل کا باعث بنا ہے۔ لوگ مایوس ہیں کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مارکیٹ میں دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ باورچی خانے میں استعمال ہونے والی سبزیوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ  اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ غریب اور متوسط ​​طبقے سے تعلق رکھنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے لئے زندہ رہنا اب مشکل ہو رہا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں کو سیکورٹی فورسیز نے کیا گرفتار

    اس سلسلے میں آج سری نگر اور جموں میں بھی کئی مقامات پر محنت کش مزدوروں نے احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ اشیاء خوردنی کے چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ سے انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف وہ دن میں صرف پانچ سو روپئے کماتے ہیں، جس سے ان کا گزارا نہیں ہو پا رہا ہے اور بازاروں میں ایک کلو چائے کی قیمت آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے اور دوسرے کھانے پینے کی چیزوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ سے مزدور طبقہ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کیا پاکستان میں فوجی راج قائم ہونے کی جانب ہے ایک قدم؟

    جموں و کشمیر کے عام لوگ حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنے والے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے لئے کوئی نہ کوئی مالی پیکج لانا چاہیے تاکہ یہ لوگ بھی اپنی زندگی گزر بسر کرسکیں ایک خاتون پوجا دیوی نے بتایا ان کا خاوند دن میں مزدوری کرکے اپنی اہل خانہ کی کفالت کر رہا تھا۔ تاہم پچھلے کئی روز سے بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے وہ دو وقت کی روٹی فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔

    کچھ مزدوروں نے نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو سالوں سے وہ مالی مشکلات  سے دوچار ہیں اور جب انہوں نے کووڈ کے بعد مزدوری کرنی شروع کی تھی، تو مہنگائی کی وجہ سے وہ مایوس ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مہنگائی کو ختم کرنے کی اپیل ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: