உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریاض احمد نے حادثے میں ریڑ کی ہڈی ٹوٹ جانے کے بعد بھی نہیں ہارا حوصلہ، کھیل کے میدان میں روشن کرنا چاہتے ہیں ملک کا نام

    ریاض کہتے ہیں جسمانی کمزور وہ شخص ہے جوکچھ نہیں کرتا۔ وادی کشمیر میں منشیات کے بڑھتے رجحان کو لیکر ریاض احمد یہاں کے  نوجوانوں کے لیے کافی فکر مند ہیں۔ ریاض احمد ایسے نوجوان کو کہتے ہیں کہ زندگی جینے کانام ہے نہ کہ برباد کرنے کا۔

    ریاض کہتے ہیں جسمانی کمزور وہ شخص ہے جوکچھ نہیں کرتا۔ وادی کشمیر میں منشیات کے بڑھتے رجحان کو لیکر ریاض احمد یہاں کے نوجوانوں کے لیے کافی فکر مند ہیں۔ ریاض احمد ایسے نوجوان کو کہتے ہیں کہ زندگی جینے کانام ہے نہ کہ برباد کرنے کا۔

    ریاض کہتے ہیں جسمانی کمزور وہ شخص ہے جوکچھ نہیں کرتا۔ وادی کشمیر میں منشیات کے بڑھتے رجحان کو لیکر ریاض احمد یہاں کے نوجوانوں کے لیے کافی فکر مند ہیں۔ ریاض احمد ایسے نوجوان کو کہتے ہیں کہ زندگی جینے کانام ہے نہ کہ برباد کرنے کا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    حوصلہ جب بلند ہو تو جسمانی معزوری معنی نہیں رکھتی۔ اور ایسے لوگ دوسروں کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔دیوبگ کنزر کےسید ریاض احمد بھی ایسے ہی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ پیدائش سے ہی جسمانی طور پر خاص ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ حادثات پیش آنے کی وجہ سے جسمانی طور پر خاص بنتے ہیں۔ ایسے لوگ جب ذہنی تناؤ اور احساس کمتری سے باہر نکل کر کسی بھی میدان میں ہمت اور حوصلے سے آگے بڑھ کر اپنا لوہا منواتے ہیں۔ توان کی شخصیت دوسروں کے لئے مشعل راہ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے دیو بگ کنزر سے تعلق رکھنے والے سید ریاض احمد بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ سید ریاض احمد ایک حادثے میں ریڑ کی ہڈی کے ٹوٹ جانے کے بعد اپنے ٹانگوں پر چلنے سے محروم ہوگئے تھے لیکن ریاض نے ہمت نہیں ہاری اور اس محرومی کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ بلکہ ریاض کھیل کے میدان میں اپنی شخصیت کو سنوار رہے ہیں۔

    ریاض ویل چئیر ایسوسی ایشن جموں وکشمیر اور ویل چئیر کرکٹ فیڈریشن آف انڈیا کے تحت ویل چئیر کرکٹ، ویل چئیر باسکٹ بال، بیڈ منٹن اور دیگر انڈور کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ریاض احمد بلند حوصلہ رکھتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں جموں وکشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کانام روشن کرنا چاہتے ہیں۔ ریاض احمد سال دوہزار گیارہ میں اس وقت ایک حادثے میں جسمانی معذور یعنی جسمانی خاص بن گئے جب کارہامہ کنزر میں آگ کی واردات کو بجھانے کے لئےفائر اینڈ ایمرجنسی سروسز میں اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام دینے کے دوران ریاض احمد سیڑھی سے گرکر معذور ہوگئے تھے۔ تب ریاض ذہنی تناؤ کے شکار ہوگئے تھے۔ تاہم سرینگر میں قائم شفقت رہبلٹیشن سنٹر کے ذریعے اس کی زندگی تبدیل ہوئی۔

    بولنے۔سننے سے معذور آرٹسٹ بشیر احمد نے اپنی بہترین مصوری سے قائم کی مثال لیکن۔۔۔

    ریاض احمد اپنی زندگی کو اچھی سمت میں لے جانے کا صلہ خورشید احمد کو دیتے ہیں۔ سید ریاض اپنے آپ کو جسمانی معذور نہیں مانتے ہیں۔ریاض از خود گاڑی بھی چلاتے ہیں انہوں نے گاڑی میں ہینڈل کے ساتھ ہی بریک اور گیر نصب کروائے۔ اب ریاض گھر کا سارا کام خود کرتے ہیں بلکہ دہلی، امرتسر اور دیگر مقامات پر بھی خود گاڑی چلاکر گھر والوں کوبھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس کامیابی میں ریاض احمد خورشید احمد کو اپنا رول ماڈل مانتے ہیں۔

    سانپ کو ریسکیو کرنے کے بعد اسے چومنے لگا شخص، سانپ نے ہونٹ پر ہی کاٹ لیا اور پھر۔۔


     

    ریاض کہتے ہیں جسمانی کمزور وہ شخص ہے جوکچھ نہیں کرتا۔ وادی کشمیر میں منشیات کے بڑھتے رجحان کو لیکر ریاض احمد یہاں کے نوجوانوں کے لیے کافی فکر مند ہیں۔ ریاض احمد ایسے نوجوان کو کہتے ہیں کہ زندگی جینے کانام ہے نہ کہ برباد کرنے کا۔ ریاض احمد دوسروں کے لئے جینا چاہتے ہیں اسی مقصد سے وہ بغیر پرواہ کے آگ بجھانے گئے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے جرآت مند افراد کا حوصلہ مند ہونے میں ساتھ دینا چاہے تاکہ معاشرے میں بگڑتے انسانوں کی دنیا سنور جاسکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: