உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر کے نوجوان نے انجام دیا بڑا کارنامہ ، 19 سال کی عمر میں تحریر کردی دو کتابیں

    جموں و کشمیر کے نوجوان نے انجام دیا بڑا کارنامہ ، 19 سال کی عمر میں تحریر کردی دو کتابیں

    جموں و کشمیر کے نوجوان نے انجام دیا بڑا کارنامہ ، 19 سال کی عمر میں تحریر کردی دو کتابیں

    جموں کے پکہ ڈنگا علاقے میں رہائش پذیر سہج سبروال ایکرو ناٹکل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے لکھنے کے شوقین رہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : سماج کے ایک طبقے میں یہ رائے پیدا کی گئی ہے کہ نوجوان نسل ادب اور شاعری میں دلچسپی نہیں رکھتی لیکن ایسا کہنا صریحاً غلط ہے جموں وکشمیر میں نوجوانوں کی ایسی بڑی تعداد موجود ہیں جو نہ صرف ادب اور شاعری کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ بلکہ اس میدان میں اپنا نام بھی روشن کررہے ہیں ۔ ایسا ہی ایک نوجوان ہے جموں کا سہج سبروال جنہوں نے انیس سال کی عمر میں انگریزی زبان میں دو کتابیں لکھ ڈالی۔ جموں کے پکہ ڈنگا علاقے میں رہائش پذیر سہج سبروال ایکرو ناٹکل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے لکھنے کے شوقین رہے ہیں۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سبروال نے کہاکہ ذہنی طور پر بالغ ہونے کے ساتھ ہی کچھ الگ کر دکھانے کی تمنا رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بارہ سال کی عمر سے ہی انگریزی میں شاعری کا آغاز کردیا۔ تاہم ان کی پہلی تصنیف Poems by Sahaj Sabeharwal آج سے دو سال قبل منظر عام پر آئی جبکہ دوسری کتاب دو ہزار اکیس کے اوائل میں جاری کی گئی ۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی کتاب میں صرف شاعری جبکہ دوسری تصنیف میں نظموں کے ساتھ ساتھ کئی مضامین بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی تصانیف کے ذریعے نوجوان نسل کو درپیش مشکلات و ان کا حل ڈھونڈنے جیسے موضوعات پر شاعری اور تبصرہ کرتے ہیں۔ سہج سبروال نے کہا کہ اس پیڑی کے نوجوان زندگی میں وقتی طور پر ناکام ہونے سے ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے بعد وہ غلط راستے اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ زندگی کے کسی موڑ پر کامیاب ہونا جتنا لازمی ہے ، اتنی ہی ضروری ناکامی بھی ہے چونکہ وقتی طور پر ناکام ہوجانے سے ہر فرد کی مہارت میں اضافہ ہوجاتا ہے جو مستقبل میں کار آمد ثابت ہوجاتی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوان وقتی طور پر ناکام ہونے کے بعد منشیات کے استعمال جیسی غلط عادت کے شکار ہوجاتے ہیں جسے ان کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ سبروال نے کہا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بہکاوے میں آکر کوئی غلط راستہ نہ اپنائیں کیونکہ اسے ان کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مضامین میں یہ بات ظاہر کرچکے ہیں کہ جموں وکشمیر کے نوجوان اپنے مادر وطن ہندوستان کی ترقی میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مثبت سوچ اپنا کر اپنے مستقبل کو تابناک بنائیں اور ملک کی مجموعی ترقی میں بڑھ چڑھ کر شامل ہوجائیں ۔

    سبروال کی تصانیف کی مختلف سطحوں پر پزیرائی ہورہی ہے جس کے عوض انہیں مقامی اور قومی سطح پر انعامات سے بھی نوازا گیا۔ سبروال کا کہنا ہے کہ وہ ایروناٹیکل انجینئرنگ میں بھی منفرد کارنامہ انجام دینے کے لیے کافی محنت کررہے ہیں تاہم وہ مستقبل میں بھی لکھنے کا کام جاری رکھیں گے۔ سہج سبروال کے والدین ان کی کامیابی پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ ان کے والد وکرم سبروال کا کہنا ہے کہ سہج پہلے سے ہی کچھ الگ کرنے کی چاہت رکھتا تھا ۔ تاہم انہوں نے سہج کو یہ کہہ کر شاعری سے دور رکھنے کی کوشش کی کہ اس کی یہ کوشش مالی اعتبار اور مستقبل کے حوالے سے فائدہ مند نہیں ہے تاہم سہج نے اپنی اس صلاحیت کو کچھ کر گزرنے کے جذبے کے تحت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی رہا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: