உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: بارہمولہ میں دہشت گردانہ حملے میں سرپنچ کی موت، پولیس نے کی گھیرا بندی

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں دہشت گردانہ حملے میں سرپنچ ہلاک

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں دہشت گردانہ حملے میں سرپنچ ہلاک

    جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) کے بارہمولہ ضلع میں جمعہ کے روز ہوئے ایک دہشت گردانہ حملے (terrorist attack) میں سرپنچ کی موت ہوگئی۔ یہ حادثہ پٹن کے گوشبدھ علاقے کا بتایا گیا ہے۔

    • Share this:
      سری نگر: جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) کے بارہمولہ ضلع میں جمعہ کے روز ٹارگیٹ بناکر ہوئے دہشت گردانہ حملے (terrorist attack) میں ایک سرپنچ کی موت ہوگئی۔ یہ حادثہ ضلع کے پٹن کے گوشبدھ علاقے کا بتایا گیا ہے۔ یہاں گاوں کے سربراہ منظور احمد بانگرو پر نزدیک سے دہشت گردوں نے گولیاں چلا دی تھیں۔ زخمی سرپنچ کو پاس کے اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ دوسری جانب، حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے کی گھیرا بندی کرکے تلاشی مہم شروع کردی ہے۔ کشمیر میں مسلسل پنچایت اراکین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور گزشتہ چھ ہفتے میں یہ کسی پنچایت رکن کے قتل کا چوتھا سانحہ ہے۔

      کشمیر زون کی پولیس نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ دہشت گردوں وک پکڑنے کے لئے مہم شروع کردی گئی ہے۔ اس حادثہ میں لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے اظہار افسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سرپنچ منظور احمد بانگرو پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہوں اور اس گھناونے کام کے لئے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔ اس غم کی گھڑی میں سوگوار خاندان سے میری گہری تعزیت ہے۔ ایکسپرٹ کا ماننا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ دہشت گرد جان بوجھ کر اس طرح کا قتل کرکے دہشت پھیلا رہے ہیں۔ ایسا ہی پیٹرن انہوں نے اکتوبر 2021 میں کیا تھا۔ اچانک ہی عام شہریوں اور مائیگرینٹ لوگوں پر حملہ کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پنجاب کے لئے لڑنا جاری رکھوں گا، Congress کے باغی لیڈروں سے ملنے کے بعد بولے نوجوت سنگھ سدھو

      حالانکہ پولیس اور فوج نے اوور گراونڈ ورکرس کو گرفتار کرکے دہشت گردوں کے نیٹ ورک تباہ کیا ہے۔ وہیں اس ماہ میں تین اپریل کو پلوامہ کے لوزرا میں بہار کے دو مزدوروں، شوپیاں میں کشمیری پنڈت کو گولی مار دی گئی تھی۔ 7 اپریل کو بھی پٹھان کوٹ باشندہ ایک مزدور کو پلوامہ میں دہشت گردوں نے گولی ماری تھی۔ 13 اپریل کو بھی دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، جس میں دہشت گردوں نے ایک شخص کا قتل کردیا تھا۔

      دوسری جانب پی ڈی پی کی سربراہ اور جموں وکشمیر کی سابق وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے بھی ٹوئٹ کرکے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ٹارگیٹ کلنگ سے غمزدہ ہوں، فیملی کے تئیں میری تعزیت ہے۔ اس خون خرابہ کا کوئی خاتمہ نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم پھر بھی ہندوستانی حکومت کشمیر کے تئیں اپنی سوچ اور حکمت عملی نہیں بدل رہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: