ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جنوبی کشمیر میں سیکورٹی فورسز نے انکاونٹر میں دو دہشت گردوں کو مار گرایا ، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

پولیس کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران جیسے ہی ملیٹینٹوں کی موجودگی کا پتہ چلا تو انہیں ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا گیا ، تاہم انھوں نے مشترکہ سرچ پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کردی ، جس کی جوابی فائرنگ سے انکاؤنٹر ہوا ۔

  • Share this:
جنوبی کشمیر میں سیکورٹی فورسز نے انکاونٹر میں دو دہشت گردوں کو مار گرایا ، اسلحہ و گولہ بارود برآمد
جنوبی کشمیر میں سیکورٹی فورسز نے انکاونٹر میں دو دہشت گردوں کو مار گرایا ، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

جموں کشمیر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کانڈی پورہ بجبہاڑہ علاقہ میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ انکاونٹر میں دو ملیٹینٹوں کو مار گرایا گیا ہے ۔ دونوں ملیٹینٹوں کا تعلق جیش تنظیم سے بتایا جا رہا ہے اور پولیس نے دونوں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ پولیس کے مطابق جموں و کشمیر پولیس ، فوج کی 3 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف نے کانڈی پورہ میں ملیٹینٹوں کی موجودگی کے بارے میں ایک مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا ۔


پولیس کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران جیسے ہی ملیٹینٹوں کی موجودگی کا پتہ چلا تو انہیں ہتھیار ڈالنے کا موقع دیا گیا ، تاہم انھوں نے مشترکہ سرچ پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کردی ، جس کی جوابی فائرنگ سے انکاؤنٹر ہوا ۔


اندھیرے کی وجہ سے بدھ کی رات آپریشن معطل ہوگیا تھا ، لیکن رات بھر محاصرہ رہا۔ جس کے بعد صبح ہوتے ملیٹینٹوں کو پھر ایک بار ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی ، لیکن ملیٹینٹوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی اور مشترکہ سرچ پارٹی پر دوبارہ فائرنگ کی اور سیکورٹی فورسیز کی جانب سے جوابی کارروائی میں چھپے ہوئے دونوں ملیٹینٹوں کو مار گرایا گیا ۔


ملی ٹینٹوں کی شناخت عادل احمد بٹ ساکن شیت پورہ بجبہاڑہ اور زاہد احمد راتھر ساکنہ سرہامہ اننت ناگ کے طور پر کی گئی ہے ۔ دونوں کا تعلق ممنوعہ سرگرم تنظیم جیش سے بتایا جا رہا ہے ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مرنے والے دونوں ملیٹینٹ سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں پر مظالم سمیت متعدد جرائم میں ملوث تھے۔

انکاونٹر کے مقام سے اسلحہ اور گولہ بارود سمیت تفتیشی مواد برآمد ہوا۔ اس سلسلے میں پولیس نے باضابطہ طور پر ایک ایف آئی آر درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔ جبکہ پولیس نے لوگوں سے انکاونٹر کے مقام سے دور رہنے کی  درخواست ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 11, 2021 10:31 PM IST