உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری، ڈرون کے ذریعہ مشتبہ مقامات پر نظر

    کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری، ڈرون کے ذریعہ مشتبہ مقامات پر نظر

    کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری، ڈرون کے ذریعہ مشتبہ مقامات پر نظر

    Jammu Kashmir News: فوج کے افسر نے کہا، ’11 اکتوبر اور 14 اکتوبر کی ابتدائی گولی باری کے بعد دہشت گردوں کے ساتھ کوئی سیدھا آمنا سامنا نہیں ہوا ہے۔ دہشت گردوں کی تلاشی کے لئے تلاشی مہم کی توسیع کی گئی ہے۔

    • Share this:
      جموں: جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی اہلکاروں کی مہم جاری ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں دہشت گردوں نے غیر کشمیریوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اب پونچھ کے راجوری اضلاع میں خراب موسم کے بعد بھی دہشت گرد مخالف مہم ہفتہ کے روز 13 ویں دن بھی جاری رہی۔ اس درمیان وزیر داخلہ امت شاہ بھی کشمیر دورے پر ہیں اور وہ ریاست کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ان جنگلات میں چھپے دہشت گردوں کے دو الگ الگ حملوں میں فوج کے 9 ملازم شہید ہوگئے تھے۔

      افسران کے مطابق، پونچھ میں مینڈھر اور سورن کوٹ اور راجوری کے سرحدی علاقہ تھنمنڈی کے گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے فوج اور پولیس کی مشترکہ تلاشی مہم پُرامن طریقے سے جاری رہنے کے درمیان دو مزید مشتبہ افراد پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لئے گئے۔ فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ جنگل کے ایک بڑے حصے کو کھنگال لیا گیا ہے اور اب تلاشی مہم اس علاقے میں محدود ہے، جہاں کئی قدرتی غاریں ہیں۔ فوج کے افسر نے کہا، ’11 اکتوبر اور 14 اکتوبر کی ابتدائی گولی باری کے بعد دہشت گردوں کے ساتھ کوئی سیدھا آمنا سامنا نہیں ہوا ہے۔ دہشت گردوں کی تلاشی کے لئے تلاشی مہم کی توسیع کی گئی ہے۔

      انہوں نے امید ظاہر کیا کہ موسم ٹھیک رہنے پر قدرتی غاروں کو کھنگالنے کا کام ایک دو دنوں میں پورا ہوجائے گا۔ جمعہ کی شب پونچھ-شوپیاں سے متصل پیر کی گلی سمیت جموں وکشمیر کے اونچے علاقوں میں پہلی برف باری ہوئی ہے جبکہ میدانی علاقوں میں بارش ہوئی ہے، جس کی وجہ سے دن کے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اافسران نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکار اعلیٰ ٹکنا لوجی والے ڈرون کی مدد سے مشتبہ مقامات پر سخت نظر رکھ رہے ہیں۔

      اس درمیان مینڈھر کے بھٹہ درّین جنگل میں فوج کی تلاشی ٹیم نے دو مشتبہ دھماکہ خیز آلات کو تباہ کردیا ہے۔ اس علاقے میں منگل کو سیکورٹی کے طور پر مقامی لوگوں کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے کا مشورہ دیا گیا تھا کیونکہ فوجی جنگل میں آگے بڑھ رہے تھے۔ دونوں ہی سرحدی اضلاع کے جنگلی علاقوں میں یہ مہم 11 اکتوبر کو تب شروع ہوئی تھی، جب دہشت گردوں نے پونچ کے سورن کوٹ میں گھات لگاکر ایک تلاشی ٹیم پر حملہ کیا تھا، جس میں 5 فوجی شہید ہوگئے تھے۔ اس کے بعد اسی دن قریبی تھانہ منڈی میں بھی تصادم ہوا تھا۔

      تصادم کے بعد دہشت گرد دونوں ہی مقامات سے بھاگ گئے، لیکن 14 اکتوبر کو پھر انہوں نے مینڈھر کے نار خاص جنگل میں حملہ کیا اور چار فوجیوں کو شہید کر دیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنی مہم بڑھا دی۔ افسران نے بتایا کہ تلاشی مہم میں لگے جوانوں کی مدد کے لئے 8 کلو میٹر لمبے اور دو کلو میٹر چوڑے جنگلی علاقے میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر لگائے گئے، ساتھ ہی پیرا کمانڈوز کو اتارا گیا۔ یہ علاقہ کنٹرول لائن سے محض 4 کلو میٹر دور ہے۔

      افسران نے کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لئے پورے جنگلی علاقہ میں سیکورٹی اہلکاروں کی تلاشی مہم کے دائرے میں ہے، لیکن پہاڑی علاقے اور گھنے جنگلات کے سبب مہم بہت مشکل اور خطرناک ہے۔ افسران نے بتایا کہ سورن کوٹ کے مستن دھارا سے دو لوگ پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لئے گئے ہیں، جو فوج کے لئے بوجھ اٹھانے والے کے طور پر کام کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 12 لوگ حراست میں لئے گئے ہیں۔ جموں کے کوٹ بلاول کارگار میں بند ایک دہشت گرد سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: