ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر کے سب سے بڑے طبی ادارے کی انتظامیہ کا متنازع بیان ، اپنے ہی اسٹاف پر لگایا نجی کلینک میں کام کرنے اور محفلیں سجانے کا الزام

شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سرینگر ، کشمیر کا سب سے بڑا طبی ادارہ ہے ، لیکن پچھلے دو مہینے سے یہ ادارہ زیادہ تر بد انتظامی کے الزامات کو لے کر خبروں میں ہے ۔

  • Share this:
کشمیر کے سب سے بڑے طبی ادارے کی انتظامیہ کا متنازع بیان ، اپنے ہی اسٹاف پر لگایا نجی کلینک میں کام کرنے اور محفلیں سجانے کا الزام
علامتی تصویر

شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سرینگر ، کشمیر کا سب سے بڑا  طبی ادارہ ہے ، لیکن پچھلے دو مہینے سے یہ ادارہ زیادہ تر بد انتظامی کے الزامات کو لے کر خبروں میں ہے ۔ پہلے کووڈ مریضوں کی صحیح دیکھ ریکھ نہ کرنے کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں اور بعد میں کووڈ اور نان کووڈ مریضوں کو صحیح طریقہ سے علاحدہ نہ رکھنے کو لے کر کئی خبریں آتی رہیں ۔ یہاں تک کہ اسپتال کے ایک سنئیر ڈاکٹر نے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسپتال کی ایمرجنسی میں کووڈ اور نان کووڈ مریضوں میں دو فٹ کی دوری بھی نہیں ہے ، جس کی وجہ سے نان کووڈ مریضوں کو  انفیکشن لگنے کا خطرہ لگا رہتا ہے ۔


اسکمز کے ڈائریکٹر ان خبروں کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں ۔ پچھلے ایک مہینہ میں جب اسپتال کے ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ یہاں تک کہ دو ایڈمنسٹریٹیو افسر کووڈ مثبت ہوگئے ، تب بھی ڈائریکٹر متواتر تردیدی بیانات جارج کرتے رہے ۔ دو دن قبل یہ خبر میڈیا میں چھا گئی کہ اسکمز میں نیورولوجی شعبہ کے سربراہ کو کووڈ مثبت ہونے کے بعد اسپتال میں بیڈ کے لئے کافی مشقت کرنی پڑی اور یہ بھی کہ اسپتال کے تقریبا 19 ڈاکٹرس ، جن میں کئی سنیئر ڈاکٹر اور کم سے کم چار شعبوں کے سربراہ شامل ہیں ، تو انتظامیہ کا پریس بیان جاری ہوا جس میں نہ صرف بیڈ نہ ملنے کی خبر کی تردید کی گئی بلکہ صاف طور لکھا گیا کہ اسپتال اسٹاف میں سے جو لوگ کووڈ پازیٹیو ہوئے ہیں ، ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب یا تو اپنے نجی کلینکوں میں انفیکشن کا شکار ہوئے یا پھر سماجی محفلوں میں ۔ پریس بیان کے مطابق یہ لوگ کووڈ وارڈس میں ڈیوٹی نہیں کررہے تھے ۔


واضح رہے کہ اسکمز سرینگر کے کسی بھی ڈاکٹر کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں ہے اور ایسے ایک معاملہ کو لے کر موجودہ ڈائریکٹر کو کچھ سال قبل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے ، جب جموں و کشمیر میں حال ہی میں ایک ڈاکٹر اپنے فرض منصبی انجام دیتے ہوئے کووڈ کا شکار بنے اور چل بسے ۔ ڈاکٹر محمد اشرف کی موت کے بعد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے فرنٹ لائن کووڈ وارئیرس کا خاص خیال رکھنے کی بات کہی ۔


نیوز 18 اردو نے اس پریس بیان کو لے کر فیکلٹی فورم کے سیکریٹری ڈاکٹر سمیر نقاش سے بات کی ، تو انھوں کہا کہ وہ اس باپت اسکمز انتظامیہ سے ثبوت طلب کریں گے ۔ اسکمز سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق جان کو جب مثبت طبی عملہ کی فہرست بھیجی گئی ، تو انھوں نے کہا کہ ان کے پاس پوری تفصیلات نہیں ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 15, 2020 08:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading