உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : عشق کے جنون میں بہن نے بھائی کے ساتھ کیا ایسا خوفناک کام ، جان کر اڑ گئے سبھی کے ہوش

    جموں و کشمیر : عشق کے جنون میں بہن نے بھائی کے ساتھ کیا ایسا خوفناک کام ، جان کر اڑ گئے سبھی کے ہوش

    جموں و کشمیر : عشق کے جنون میں بہن نے بھائی کے ساتھ کیا ایسا خوفناک کام ، جان کر اڑ گئے سبھی کے ہوش

    Jammu and Kashmir News : دل دہلادینے والا یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد جموں وکشمیر بالخصوص راجوری ضلع کے لوگ سکتے میں ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے انسانیت شرمسار ہوگئی ہے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : جموں خطے کے راجوری ضلع میں ایک ایسا واقع سامنے آیا ہے ، جس نے انسانیت اور بھائی بہن کے مقدس رشتے کو داغ دار بنادیا ہے ۔ راجوری ضلع کے چکلی گاؤں میں پریا بخشی نامی ایک لڑکی نے اپنے عاشق راجن شرما کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائی انکھت بخشی کو قتل کرنے سازش کو انجام دیا ۔ راجوری کی ایس ایس پی سیما نبی کسبا نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گیارہ اگست دوہزار اکیس کو ایک شکایت ملنے پر پولیس اسٹیشن راجوری میں کیس درج کیا گیا ، جس میں شکایت کنندہ نے بیان کیا کہ دس اور گیارہ اگست کی درمیانی رات کو چند نامعلوم افراد نے بچن لال نامی ایک شخص کے گھر میں داخل ہوکر ایک تیز دھار ہتھیار سے ان کے بیٹے انکھت بخشی پر جان لیوا حملہ کیا ۔ جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ بیٹھا۔

    ایس ایس پی کے مطابق کیس درج کرکے پولیس نے معاملہ کی تفتیش شروع کردی۔ اور موقع واردات پر پہنچ کر اس معاملہ کے ہر پہلو کی تحقیقات کی۔ تحقیقات کے دوران اس واقعہ سے منسلک تمام افراد پر بھی نگاہ رکھی گئی اور پوچھ تاچھ کے دوران معلوم ہوا کہ مقتول کی بہن پریا بخشی کے چنگس راجوری کے ایک نوجوان راجن شرما کے ساتھ لگ بھگ ایک برس سے قریبی تعلقات تھے۔ پریا بخشی کے بھائی مقتول انکھت بخشی ان دونوں کے تعلقات کے خلاف تھے اور انہوں نے بار ہا اپنی بہن کو راجن شرما سے دور رہنے کے لیے کہا ۔

    پولیس کے مطابق انکت بخشی نے اپنی بہن کو راجن سے دور رہنے کے لیے چند ایک بار طاقت کا بھی استعمال کیا۔ بھائی کے اس رویہ سے ناراض پریا بخشی نے انکھت بخشی کو راستے سے ہٹانے کے لیے اپنے عاشق اور ایک اور شخص کے ساتھ مل کر اس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور تینوں نے دس اور گیارہ اگست کی درمیانی شب کو اپنے اس ناپاک منصوبے کو انجام دیا۔ مقتول انکھت کی بہن اس کے عاشق اور مزید ایک نوجوان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی راجوری نے اس قتل میں ملوث تیسرے شخص کی شناخت بیان کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ تیسرا نوجوان نابالغ ہوسکتا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہے۔

    دل دہلادینے والا یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد جموں وکشمیر بالخصوص راجوری ضلع کے لوگ سکتے میں ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے انسانیت شرمسار ہوگئی ہے ۔  راجوری ضلع کی سماجی کارکن سونم شرما کا کہنا ہے کہ یہ واقع انسانیت کو شرمسار کرنے والا واقعہ ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سونم شرما نے کہا کہ یہ واقعہ رکشا بندھن سے چند روز قبل سامنے آیا ہے کہ جس موقع پر بہن بھائی کی کلائی پر راکھی باندھ کر اس کی عمر درازی کی دعا کرتے ہوئے بھائی سے یہ وعدہ لیتی ہے کہ وہ بہن کی حفاظت کرنے کا اپنا وعدہ دہرائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے سامنے آجانے کے بعد سب کچھ اس کے بر عکس ہوتا دکھ رہاہے۔

    ایک اور سماجی کارکن ستیش شرما کا کہنا ہے کہ انکھت بخشی کے قتل ہونے کے واقع کے خلاف علاقہ کے سبھی لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج درج کیا تھا۔ لیکن کسی کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ اس شریف النفس نوجوان کے قتل کے پیچھے اسی کی بہن کا ہاتھ ہوگا ۔ ایک اور سماجی کارکن بھارت بھوشن نے کہا کہ انکھت بخشی کے قتل کا واقعہ سامنے آنے کے بعد لوگوں کی یہ رائے تھی کہ کسی دشمن نے اس گھناؤنی جرم کو انجام دیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ گنہگاروں کے بارے میں تمام تفصیلات جاری کی گئی ہے ، لوگوں کا یہی مطالبہ ہوگا کہ اس لڑکی اور اس کے عاشق سمیت تمام مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دے ۔ تاکہ کوئی اور بہن اس طرح کی گھناؤنی حرکت انجام دینے کے بارے میں سوچ بھی نہ پائے۔

    دراثناء کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والے سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا۔ عالم دین مولوی منظورنے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ راجوری میں پیش آئے واقعہ نے پوری انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایسے واقعات انتہائی افسوناک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں رہ رہے لوگوں خاص کر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تربیت کرنا انتہائی اہم اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے جرائم سے روکنے کے لیے معاشرے میں بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

     

    سماجی کارکن غلام حسن بابا نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ اصلاحی معاشرے کی تشکیل بہت ضروری ہے ۔ انہوں بتایا کہ جب معاشرہ میں اصلاحی فکر عام ہو تو معاشرے میں جرائم کے واقعات بھی کم ہوسکتے ہیں ۔ غلام حسن بابا نے کہا کہ راجوری میں پیش آئے واقعہ نے پورے جموں وکشمیر کےلوگوں کے دلوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: