ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے 21 برس مکمل ، متاثرین اب تک انصاف کے منتظر

چھٹی سنگھ پورہ کے لوگ آج بھی اس قتل عام کو نہیں بھول پا رہے ہیں ۔ 20 اور 21 مارچ 2000 کی وہ سیاہ رات کا منظر آج بھی چھٹی سنگھ پورہ کے ریچھ پال سنگھ آزاد کی آنکھوں میں قید ہے ، جب اس کے والد کو گاوں کے دیگر سکھوں کے ساتھ بندوق برداروں نے کھڑا کر کے اندھا دھند گولیاں برسا کر موت کی ابدی نیند سلا دیا تھا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے 21 برس مکمل ، متاثرین اب تک انصاف کے منتظر
جموں و کشمیر : چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے 21 برس مکمل ، متاثرین اب تک انصاف کے منتظر

جموں و کشمیر : جنوبی کشمیر کے چھٹی سنگھ پورہ قتل عام کے آج 21 برس مکمل ہو چکے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھی قتل عام متاثرین انصاف کی تلاش میں ہیں اور سرکار سے لگاتار انصاف کی فریاد کر رہے ہیں ۔ 21 سال قبل بندوق برداروں نے گاوں میں گھس کر نہتے باشندوں پر گولیاں برسائیں اور اس طرح سے 35 سکھوں کا ایک ساتھ قتل کردیا گیا ۔


چھٹی سنگھ پورہ کے لوگ آج بھی اس قتل عام کو نہیں بھول پا رہے ہیں ۔ 20 اور 21 مارچ 2000 کی وہ سیاہ رات کا منظر آج بھی چھٹی سنگھ پورہ کے ریچھ پال سنگھ آزاد کی آنکھوں میں قید ہے ، جب اس کے والد کو گاوں کے دیگر سکھوں کے ساتھ بندوق برداروں نے کھڑا کر کے اندھا دھند گولیاں برسا کر موت کی ابدی نیند سلا دیا تھا ۔ یہ سانحہ اس وقت انجام دیا گیا تھا ، جب پورا ملک ہولی کے رنگوں میں ڈوبا ہوا تھا اور چھٹی سنگھ پورہ میں بندوق تھامے افراد نے 35 سکھوں کا قتل کر کے خون کی ہولی کھیلی ۔


ریچھ پال سنگھ کمسنی کی عمر سے اب کافی جوان ہو گئے ہیں ، لیکن اس رات کا سیاہ و خوفناک منظر اب بھی ان کی نیندیں اڑا دیتا ہے ۔ ریچھ پال سنگھ کے مطابق رات کے وقت میں اچانک بندوق بردار گاوں میں داخل ہوئے اور سبھی مردوں کو گاوں کے دو گرودواروں کے نزدیک جمع ہونے کی ہدایت دی ۔ تو دیگر مردوں کی طرح ان کے والد کو بھی گھر سے نکالا گیا اور مقامی گرودوارے کے سامنے ان پر گولیاں برسائی گئیں اور 35 سکھوں کا بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا ۔ تب سے لے کر آج تک اس سانحہ کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ اب تک سرکار قاتلوں کا سراغ تک لگانے میں ناکام رہی ہے ۔


ریچھ پال کی طرح چھٹی سنگھ پورہ کے ایسے کئی افراد ہیں ، جنہوں نے اس قتل عام میں اپنے خویش و اقارب کو کھو دیا ۔ مقامی سماجی کارکن و سکھیڈر گیانی راجیندر سنگھ کے مطابق اگرچہ اس سانحہ کے بعد حکومت نے کئی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دئے اور بین الاقوامی دباو میں قتل عام کی تحقیقات بڑے پیمانے پر شروع کر دی تھی ، لیکن آج تک سب لاحاصل ہے ۔ جبکہ سانحہ میں ملوث افراد کو نامعلوم بندوق بردار بتا کر کئی مرتبہ متعلقین نے اپنا پلا تو جھاڑ لیا ، لیکن متاثرین کو اب بھی انصاف کی امید ہے ۔

گیانی راجیندر سنگھ کے مطابق اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی انہوں نے انصاف کا دامن تھامے رکھا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک دن قاتلوں کا سراغ ضرور ملے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔ گیانی راجیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ نا ہی مرکزی اور نا ہی جموں و کشمیر کی سرکاروں نے متاثرین کو انصاف دلانے کی آج تک سنجیدہ پہل کی ، اس لئے لوگ چاہتے ہیں کہ اس قتل عام کی از سر نو تحقیقات بین الاقوامی سطح پر شروع کی جائے۔

چھٹی سنگھ پورہ کے لوگوں نے قتل عام میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلئے کئی دروازوں پر دستک دی ۔ لیکن انہیں اب تک صرف مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔ ایسے میں متاثرین اب بین الاقوامی سطح کی تحقیقات کیلئے بضد ہیں ۔ قتل عام کے متاثر رویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ قتل عام کی جانچ کے نام پر ان کا سیاسی استحصال بھی کیا گیا ، لیکن انہیں ہمیشہ یہ احساس دلایا گیا کہ جیسے یہ لوگ اس ملک کے شہری ہی نہیں ہیں ۔

واضح رہے کہ اس قتل عام کے وقت اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن ہندوستان کے دورے پر تھے ۔ ایسے میں چھٹی سنگھ پورہ میں موت کا ننگا ناچ دیکھنے کو ملا ، جس کی عالمی سطح پر مذمت تو کی گئی ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ متاثرین کی آہیں بھی ٹھنڈی پڑ گئیں اور ان کی آوازیں اور شکوے بھی صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئے ہیں ۔ اس کے باجود انہیں ابھی بھی امید ہے کہ کبھی نہ کبھہ انصاف کا نیا سورج ضرور طلوع ہوگا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 21, 2021 10:15 PM IST