உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderpora Encounter : پولیس رپورٹ کے بعد بیان بازی ، SIT نے دی قانونی کارروائی کی وارننگ

    Hyderpora Encounter : پولیس رپورٹ کے بعد بیان بازی ، SIT  نے دی قانونی کارروائی کی وارننگ

    Hyderpora Encounter : پولیس رپورٹ کے بعد بیان بازی ، SIT نے دی قانونی کارروائی کی وارننگ

    Jammu and Kashmir News : سرینگر کے حیدرپورہ انکاونٹر  پر پولیس ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر ایک اور تنازعہ کھڑا  ہوگیا ہے۔ مارے گئے افراد کے اہل خانہ نے پولیس کی دلیل مسترد کردی اور سیاست دانوں نے تیز طرار بیانات دئے۔

    • Share this:
    سری نگر : حیدر پورہ انکاونٹر (Hyderpora Encounter)  پر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کی پریس کانفرنس کے بعد جہاں سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی ہے تو وہیں پولیس نے اس بیان بازی پر ایس آئی ٹی کی طرف سے قانونی کارروائی کی دھمکی پر تنقید بھی کی جا رہی ہے ۔ ایس آئی ٹی (SIT)  کی طرف سے کل جب پریس کانفرنس میں مارے گئے دو افراد یعنی عامر ماگرے کو ملی ٹینٹ کا ساتھی اور ڈاکٹر مدثر کو بھی ملی ٹینسی میں ملوث قرار دیا گیا ، تو محبوبہ مفتی ، پی سے جی ڈی ، پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کے سید الطاف بخاری نے بھی اس کو مسترد کیا۔

    پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایس آئی ٹی کی طرف سے آرمڈ فورسز کو کلین چٹ دینا کوئی حیرت کی بات نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کیسے انصاف کی امید کرسکتے ہیں ، جب وہی منصف ہوں جنہوں نے قتل کیا ہو۔ باقی سیاسی لیڈروں نے بھی کچھ اسی طرح کے ٹویٹ کئے ۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے تو سیدھے کہا کہ حیدر پورہ انکاونٹر ایک قتل ہے اور آپ تحقیقات کریں یا نہ کریں ، ہمیں پتہ ہے کہ تین کشمیریوں کو وہاں قتل کیا گیا۔

    اس کے بعد اس انکاونٹر میں مارے  ڈاکٹر مدثر ، عامر ماگرے اور الطاف احمد کے اہل خانہ نے بھی پولیس کی تحقیقات کو مسترد کیا ۔ ڈاکٹر مدثر کی بیوی نے کہا کہ اگر پولیس کے پاس ان کی ملی ٹینسی میں شامل ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے تو انہیں بھی دکھائیں ۔ انھوں نے کہا کہ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے شوہر کو کس خطا کی سزا ملی ۔ عمارت کے مالک الطاف احمد کے بھائی نے سوال کیا کہ اگر فوج اور سیکورٹی دستے اتنی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے ، تو پھر غیر ملکی ملی ٹینٹ نے کیسے اسے کیسے ڈھال بنایا اور وہ مارا گیا ۔ ان بیانات کے بعد ایس آئی ٹی نے دھمکی دے ڈالی ۔

    ایک پریس نوٹ میں ایس آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ ان کی رپورٹ کو غلط بیانی اور قاتلوں کو چھپانے کی کارروائی بتانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ابھی ان کی جانچ جاری ہے۔ ایس آئی ٹی کی اس دھمکی پر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللّٰہ نے سے ناراضگی کا اظہار کیا ۔ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ کہا کہ اگر تحقیقات ادھوری ہے تو پھر اسے میڈیا کے سامنے رکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ کسی بھی رپورٹ پر کسی بھی شہری کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔

    سی پی آئی ایم کے سنیئر لیڈر ایم وائی تاریگامی نے بھی پولیس کی دھمکی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اب سب کی نظریں جموں کشمیر حکومت کی جانب سے کی جارہی مجسٹریل انکوائری پر لگی ہیں ۔ جہاں کچھ لوگ کہتے ہیں وہاں بھی ایسی ہی رپورٹ آئی گی ، لیکن چند ایک کو امید ہے کہ مجسٹریل تحقیقات الگ ہے ۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: