ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بیٹی کی شادی کے لئے گھر لوٹا باپ لیکن تابوت میں ، پڑھئے کشمیر کے ایک کاریگر کی دکھ بھری کہانی

نذیر اور ان کے 88 ساتھیوں کے لئے یہ خوشی چند منٹ کی مہمان ثابت ہوئی ، کیونکہ جلد ہی پتہ چلا کہ ٹرین حیدر آباد اسٹیشن پر آئے گی جبکہ یہ لوگ حیدر آباد شہر سے 430 کلو میٹر دور پٹاپرتی علاقہ میں کام کرتے تھے۔ بہر حال گھر لوٹنا مجبوری تھی ، لہذا حیدرآباد تک پہنچنے کے لئے تین بسوں کا انتظام کیا ۔ آندھرا پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے ایک لاکھ بیاسی ہزار کا کرایہ لیا ، جو ان لوگوں نے ادھار لے کر پورے کئے ۔ مزدوروں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آتے ؟ ۔

  • Share this:
بیٹی کی شادی کے لئے گھر لوٹا باپ لیکن تابوت میں ، پڑھئے کشمیر کے ایک کاریگر کی دکھ بھری کہانی
بیٹی کی شادی کے لئے گھر لوٹا باپ لیکن تابوت میں ، پڑھئے کشمیر کے ایک کاریگر کی دکھ بھری کہانی

جموں و کشمیر : بھوک ، پیاس ، انتظار ، سرینگر کے نذیر احمد کے لئے آج شام سب ختم ہوا ۔ انھوں نے مٹی کی چادر اوڑھ لی ، لیکن ان کے گھر میں ہو کا عالم ہے ۔ والد کے انتظار میں سال بھر سے انتظار میں بیٹھی نذیر احمد کی چار بیٹیوں کی آہ و زاری دل چیر دیتی ہیں ۔ بڑی بیٹی کی شادی اگلے مہینے ہونے والی تھی اور یہی وجہ تھی کہ لاک ڈاؤن کے ان مشکل ایام میں بھی یہ باپ حیدر آباد سے سرینگر لوٹنا چاہتا تھا ۔


کشمیر میں آئے روز کی ہڑتالوں ، کرفیو اور دیگر پریشانیوں سے دل برداشتہ ہوکر پانچ سال پہلے قالین باف نذیر احمد نے حیدرآباد جانے کا فیصلہ کیا ۔ وہاں جاکر ایک قالین کی دکان پر نوکری شروع کی اور اپنی چار بیٹیوں اور بیمار بیٹے کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔


نذیر احمد ہر سال ایک بار گھر آتے تھے ۔ ان کے ایک ساتھی کے مطابق  اس بار وہ گھر آنے کے لئے زیادہ بیتاب تھے ، کیونکہ بڑی بیٹی کی شادی اگلے مہینے ہونے والی تھی ۔ لاک ڈاؤن نے انہیں مایوس کردیا تھا ۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ حیدر آباد سے خصوصی ٹرین جموں کے لئے جارہی ہے ۔ " ہم سب پریشان تھے اور جب یہ خبر سنی تو سب خوش ، لیکن  نذیر احمد تو پھولے نہیں سما رہا تھا۔" نذیر احمد کے ایک ساتھی نے بتایا۔




تاہم نذیر اور ان کے 88 ساتھیوں کے لئے یہ خوشی چند منٹ کی مہمان ثابت ہوئی ، کیونکہ جلد ہی پتہ چلا کہ ٹرین حیدر آباد اسٹیشن پر آئے گی جبکہ یہ لوگ حیدر آباد شہر سے 430 کلو میٹر دور پٹاپرتی  علاقہ میں کام کرتے تھے۔ بہر حال گھر لوٹنا مجبوری تھی ، لہذا حیدرآباد تک پہنچنے کے لئے تین بسوں کا انتظام کیا ۔ آندھرا پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے ایک لاکھ بیاسی ہزار کا کرایہ لیا ، جو ان لوگوں نے ادھار لے کر پورے کئے ۔ مزدوروں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آتے ؟ ۔

اٹھارہ مئی کو سفر شروع کیا اور پہلے حیدر آباد اور پھر وہاں سے ٹرین سے چھتیس گھنٹے کا تھکان بھرا سفر پورا کرنے کے بعد ادھمپور جموں پہنچے ۔ 20 مئی کو ادھمپور سے کے کے ایس آر ٹی سی بسوں میں سوار ہوئے ، لیکن موت جیسے راستے میں گھات لگائے بیٹھی تھی ۔ گاڑی رامبن پہنچی تو آگے معمول کی طرح راستہ پتھر گر آنے کی وجہ سے بند تھا ۔ نذیر احمد رفع حاجت کے لئے  گاڑی سے اترا ، پاؤں پھسلا اور سیدھے گہری کھائی میں ۔ ان کے ساتھیوں اور ریسکیو ٹیم نے کافی مشقت کے بعد لاش نکالی ۔

ادھر یہ خبر سرینگر کے نوپورہ علاقہ میں ان کے گھر والوں تک پہنچی ، تو ہنگامہ بپا ہوگیا ۔ جو پہلے والد کا انتظار کررہے تھے وہ اب ان کی لاش کے کرب ناک انتظار میں تھے ۔ 36 گھنٹے تک سڑک پر رکھنے کے بعد آخر کار اس اچھے کاریگر ، اچھے والد اور شوہر کی لاش سرینگر لائی گئی اور آہوں اور سسکیوں کے بیچ نوپورہ حبہ کدل میں واقع قبرستان میں دفن کردی گئی ۔
First published: May 23, 2020 12:03 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading