ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں۔کشمیر: کسک جو بھلائے نہیں بھلتی، کشیمیری پنڈتوں کی کہانی: یہاں پڑھیں

آج بھی لاکھوں ہزاروں کشمیری پنڈتوں کو ان وعدوں کے وفا ہونے اور اپنے گھر لوٹنے کا انتظار ہے۔ ان کشمیری پنڈتوں میں سے ہر ایک کے پاس ایک دردناک کہانی ہے۔ ان میں ایک بڑا سانحہ، ایک دردناک کہانی سروانند کول پریمی اور راجیندر پریمی خاندان کی بھی ہے۔ اس خاندان نے اپنے سربراہ سرونانند کول پریمی اور ویریندر کول پریمی کی شہادت کا درد جھیلا ہے۔

  • Share this:
جموں۔کشمیر: کسک جو بھلائے نہیں بھلتی، کشیمیری پنڈتوں کی کہانی: یہاں پڑھیں
آج بھی لاکھوں ہزاروں کشمیری پنڈتوں کو ان وعدوں کے وفا ہونے اور اپنے گھر لوٹنے کا انتظار ہے۔ ان کشمیری پنڈتوں میں سے ہر ایک کے پاس ایک دردناک کہانی ہے۔ ان میں ایک بڑا سانحہ، ایک دردناک کہانی سروانند کول پریمی اور راجیندر پریمی خاندان کی بھی ہے۔ اس خاندان نے اپنے سربراہ سرونانند کول پریمی اور ویریندر کول پریمی کی شہادت کا درد جھیلا ہے۔

کشمیری پنڈتوں کے وادی سے بے گھر ہونے کے سانحے کو لیکر 30 سال پورے ہورہے ہیں لیکن ان 30 سالوں میں کشمیری پنڈت کبھی وہ دردناک وقت اور خونی ماحول نہیں بھول سکے ہیں۔ گزشتہ 30 سالوں میں حکومتیں آئی گئیں کئی وزیر اعظم آئے وعدے ہوئے لیکن آج تک وادی میں واپسی کا وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ آج بھی لاکھوں ہزاروں کشمیری پنڈتوں کو ان وعدوں کے وفا ہونے اور اپنے گھر لوٹنے کا انتظار ہے۔ ان کشمیری پنڈتوں میں سے ہر ایک کے پاس ایک دردناک کہانی ہے۔ ان میں ایک بڑا سانحہ، ایک دردناک کہانی سروانند کول پریمی اور راجیندر پریمی خاندان کی بھی ہے۔ اس خاندان نے اپنے سربراہ سرونانند کول پریمی اور ویریندر کول پریمی کی شہادت کا درد جھیلا ہے۔

راجیندر کول پریمی اور ان کا خاندان گزشتہ 30 سالوں سے دہلی میں رہ رہاہے۔ وہ خود دہلی کے سریتا وہار میں ڈی ڈی اے فلیٹ میں رہتے ہیں لیکن 30 سال پہلے جو کچھ ہوا اس کو وہ آج تک نہیں بھلا سکے 30 سال پہلے اننت ناگ ضلع سوف شالی کوکرناگ کے قصبے میں ان کا خاندان اکیلا دولاکھ مسلم لوگوں کے درمیان رہتاتھا۔ والد سروانند کول پریمی کوکرناگ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ بھائی چارہ اور یقین دہانی کی بات تھی کہ ان کے خاندان نے 19 جنوری 1990 کو ملیٹنٹوں کے ذریعے وادی خالی کردینے کی دھمکی اور فرمان کے باوجود اپنا قصبہ نہیں چھوڑا تھا۔ راجیندر کول پریمی کو 28 اپریل 1990 کی وہ خونی رات آج بھی یاد ہے جب ملیٹنٹ رات کے 9 بجے ان کے گھر میں داخل ہوئے اور رات کے 3 بجے ان کے بھائی ویریندر کول پریمی اور ان کے والد سروانند کول پریمی دونوں کو ساتھ لیکر گئے اور 1 مئی کو ان کی لاشیں پولیس گھر لیکر آئی راجیندر کہتے ہیں اس دن یقین اور بھائی چارے کے تمام پُل بہہ گئے اور جو بھی بچے ہوئے کشمیری پنڈت تھے۔ انہوں نے وادی چھوڑ دی۔

راجیندر کول بتاتے ہیں ان کے والد سروانند کول اور ان کے خاندان کی علاقے میں بہت زیادہ عزت تھی۔ علاقائی لوگ مسلمان خود کہتے تھے وہ ان کا بال بانکا نہیں ہونے دیں گے لیکن 1 مئی کو والد سروانند کول اور چھوٹے بھائی ویریندر کی شہادت کے بعد انہوں نے 5 مئی کو آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد وادی کو چھوڑ دیا۔ راجیندر بتاتے ہیں 28 اپریل کی رات جو ہوا وہ انہیں آج بھی یاد ہے 1 مئی کو پولیس کے آنے کا منظر کبھی بھلا نہیں سکتے۔



راجیندر کول بتاتے ہیں ان کے والد سروانند کول پریمی 3 درجن سے زیادہ کتابوں کے رائٹر تھے جن میں گیتا کا کشمیری ترجمہ اور اردو ترجمہ شامل ہے۔ اسی طرح راماین کا کشمیری ترجمہ بھی شامل ہے۔ وہ بتاتے ہیں ان کے گھر میں 21000 کتابیں تھیں جن کو جلا دیا گیا یا لوٹ لیا گیا۔ ان کا گھر جلا دیا گیا۔ راجیندر کہتے ہیں کشمیر سے جب وہ نکلے ان کی دوبیٹیاں، بیوی اور تین غیر شادی شدہ بہنیں تھیں۔ کافی براوقت دیکھا 10 دن جموں میں رہے اور پھر دہلی آگئے جہاں چھوٹے بھائی پہلے سے آکاشوانی میں نوکری کرتے تھے۔ راجیندر کہتے ہیں حکومتوں سے صرف وعدے ملے امیدیں بندھائی گئی لیکن آج تک کوئی معاوضہ نہیں ملا نہ ہی انکے والد کےقتل کے کیس میں کچھ ہوا۔ ان کے والد کے قتل کے کیس کو ان ٹریسیبل بتاکر بند کردیا گیا۔
راجیندر بتاتے ہیں کہ کشمیر کی یاد آج بھی بہت آتی ہے۔ 1 مئی اور 5 مئی کو گھر کا ماحول بہت غمگین ہوتا ہے۔ ان کے بھائی دہلی میں پہلے سے ہی آکاش وانی میں تھے جس سے تھوڑا سہارا ملا اب بھی ان کے گھر میں نئی نسلیں پیدا ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کشمیر نہیں دیکھا لیکن وہ خود اور نئی نسل سب واپس اپنے وطن جانا چاہتے ہیں جہاں پر وہ کھیلے کودے جہاں انہوں نے گلی ڈنڈا، کبڈی جیسے کھیل کھیلے جہاں ان کا اسکول ہے وہ وہاں لوٹنا چاہتے ہیں۔
راجیندر کہتے ہیں کشمیر چھوڑنے کے بعد دہلی آکر وہ سماج کیلئے کام کرنے لگے ابھی وہ یہی کام کرتے ہیں۔
First published: Jan 19, 2020 03:06 PM IST