உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : کووڈ کے مدنظر سرینگر انتظامیہ کی سخت کارروائی ، دو درجن سے زائد دکانیں سیل

    جموں و کشمیر : کووڈ کے مدنظر سرینگر انتظامیہ کی سخت کارروائی ، دو درجن سے زائد دکانیں سیل

    جموں و کشمیر : کووڈ کے مدنظر سرینگر انتظامیہ کی سخت کارروائی ، دو درجن سے زائد دکانیں سیل

    Jammu and Kashmir News : اعجاز اسد نے کہا کہ سرینگر کے کچھ علاقوں میں کووڈ معاملات زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو ان علاقوں میں لاک ڈاون بھی لگایا جاسکتا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    سری نگر : سرینگر میں پچھلے تین ہفتوں سے کووڈ معاملات بڑھتے جارہے ہیں   اور اس کے مدنظر اب انتظامیہ نے کووڈ ٹیکہ کاری کے ساتھ ساتھ دیگر ایس او پیز پر سختی سے عمل کروانا شروع کر دیا ہے ۔ ڈپٹی کمشر سرینگر اور ایس ایس پی سرینگر نے آج سرینگر کے کئی بازاروں کا اچانک دورہ کیا اور قواعد و ضوابط کی پاسداری نہ کرنے والوں کے خلاف موقع پر ہی کارروائی کی ۔ اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران 30 کے قریب دکان ماسک نہ پہننے اور دوری نہ بنائے رکھنے کی پاداش میں سِیل کر دئے گئے۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو ایس او پیز پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ۔

    ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے کہا کہ سرینگر میں مسلسل کووڈ کیسز بڑھ رہے ہیں اور انتظامیہ کسی شخص کو باقی لوگوں کے لئے کووڈ پھیلانے کا سبب نہیں بننے دے گی ۔ اعجاز اسد نے کہا کہ سرینگر کے کچھ علاقوں میں کووڈ معاملات زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو ان علاقوں میں لاک ڈاون بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ ایس ایس پی سرینگر نے اس موقع پر کہا کہ کئی لوگ ماسک نہیں پہنتے ، جس پر اُن کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ۔ ضلع انتظامیہ کی اس کارروائی کے دوران 20 ہزار کا جُرمانہ بھی وصول کیا گیا ۔

    کووڈ کی تیسری لہر کے اندیشے کے بیچ اب کشمیر میں کووڈ کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے ۔ اکثر لوگوں نے انتظامیہ کی اس کارروائی کا خیر مقدم کیا ، لیکن سوال کیا کہ سرکاری پروگراموں میں کووڈ ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے ۔ اس کے جواب میں ضلع ترقیاتی کمشنر اعجاز اسد نے کہا کہ سرکاری پروگراموں کو روکا نہیں جاسکتا ، کیونکہ یہ عوام کے بھلائی کے پروگرام ہیں ۔

    لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سرینگر کے بازاروں کی طرح سرکاری پروگراموں میں بھی کووڈ ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: