ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کووڈ کرفیو کا سختی سے نفاذ ، اموات کی تعداد میں تین گنا اضافہ

Jammu and Kashmir News : کرفیو کے دوران کئی جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور لازمی خدمات کو ہی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ لوگوں نے بھی زیادہ تر گھروں میں رہنے کو ترجیح دی ۔ 34 گھنٹے کا یہ کرفیو سوموار صبح چھ بجے تک لاگو رہے گا

  • Share this:
جموں و کشمیر : کووڈ کرفیو کا سختی سے نفاذ ، اموات کی تعداد میں تین گنا اضافہ
جموں و کشمیر : کووڈ کرفیو کا سختی سے نفاذ ، اموات کی تعداد میں تین گنا اضافہ

سری نگر : جموں و کشمیر میں کل رات آٹھ بجے سے کووڈ کرفیو نافذ کیا گیا ، جس پر آج سختی سے عمل کروایا گیا۔ کرفیو کے دوران کئی جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور لازمی خدمات کو ہی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ لوگوں نے بھی زیادہ تر گھروں میں رہنے کو ترجیح دی ۔ 34 گھنٹے کا یہ کرفیو سوموار صبح چھ بجے تک لاگو رہے گا ۔ ادھر کووڈ مثبت معاملات کے ساتھ ساتھ اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ 26 اپریل کو مزید 21 اموات کے ساتھ اس ہفتہ کووڈ اموات کی تعداد 84 ہوگئی ہے ۔ جبکہ اس سے قبل گزرے ہفتہ میں یہ تعداد صرف 29 تھی یعنی اموات میں تین گُنا سے زاید اضافہ ہوا ہے ۔ اپریل مہینے میں 26 اپریل تک کل 153 اموات ہوئی ہیں ۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئے کووڈ معاملوں میں اضافہ جاری رہا تو زیادہ لوگوں کو اسپتال جانے کی ضرورت پڑے گی اور پورا طبی نظام مُشکل میں پڑ جائے گا۔ پچھلے ہفتے اسپتالوں میں کافی کم لوگ بھرتی تھے ، لیکن اس ہفتے مریضوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے ۔ کشمیر کے پہلے کووڈ مخصوص اسپتال چیسٹ ڈیزیزس اسپتال میں اب بیڈ کم پڑ رہے ہیں ۔ اسپتال کے صدر شعبہ امراض سینہ اور معروف معالج پروفیسر نوید نذیر کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ میں اضافہ کے ساتھ مریضوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور زیادہ لوگوں کو آکسیجن اور دیگر سہولیات درکار ہوں گی ۔ حالانکہ جموں و کشمیر انتظامیہ کا دعوٰی ہے کہ آکسیجن ، بیڈ اور ادویات میسر ہیں ۔


تاہم کچھ دن قبل سرینگر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر اسکمز ڈاکٹر اے جی آہنگر نے کہا کہ انہیں ریمڈیزوائر انجیکشن کی کمی کا سامنا ہے جبکہ ڈویزنل کمشنر نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ کوئی کمی نہیں ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ سے طبی ماہرین خفا نظر آتے ہیں ، جو مسلسل مارچ کی شروعات سے کہہ رہے تھے کہ کووڈ معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، لیکن حکومت نے اُن کی ایک نہیں سُنی اور سیاحت کے نام پر بڑے بڑے میلے لگوائے ، جن میں کووڈ قواعد ضوابط کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ۔


پروفیسر نوید نذیر نے وزیر اعظم کے ساتھ من کی بات میں یہی کہا کہ لوگ کووڈ کے باوجود زندگی کا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں ، شرط یہ ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں ۔ پروفیسر نوید اور دیگر ماہرین پچھلے دو ماہ سے یہی کہتے رہے ہیں ، لیکن نہ ہی انتظامیہ نے اس پر عمل کیا اور نہ ہی عام لوگوں نے۔ اب حالات ایسے موڑ پر آگئے ہیں ، جہاں کووڈ قواعد و ضوابط  پر عمل  کے ساتھ ساتھ طبی ڈھانچے کی آزمایش کا وقت ہے۔

ادھر ایک اور اہم فیصلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری پچاس فیصدی کردی ۔ حالانکہ جموں و کشمیر میں اسکول پہلے ہی بند کردئے گئے تھے لیکن اساتذہ کی اسکول میں مکمل حاضری لازمی کردی گئی تھی ، جس سے اساتذہ پریشان تھے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 25, 2021 07:26 PM IST