ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : طالب علم کی بے دردی سے پٹائی کا ویڈیو وائرل ، ٹیچر گرفتار ، جانئے کیا ہے معاملہ

کوچنگ مرکز کے منتظم ڈاکٹر سجاد نے نیوز 18 کو بتایا کہ انھیں بھی اس معاملہ کے بارے میں ویڈیو کے ذریعہ ہی پتہ چلا ۔ انھوں نے والدین اور عوام سے معافی مانگی ہے اور کہا کہ ملزم کو سزا ملنی چاہئے ۔ ادھر عوام میں بھی اس واقعہ کو لے کر کافی غم و غصہ ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : طالب علم کی بے دردی سے پٹائی کا ویڈیو وائرل ، ٹیچر گرفتار ، جانئے کیا ہے معاملہ
جموں و کشمیر : طالب علم کی بے دردی سے پٹائی کا ویڈیو وائرل ، ٹیچر گرفتار ، جانئے کیا ہے معاملہ

سری نگر : کشمیر کے سرمائی دار الحکومت سرینگر میں ایک نجی کوچنگ مرکز میں ایک اُستاد نے ایک طالب علم کو بے دردی سے مارا پیٹا ۔ یہ واقعہ 9  اپریل کو پیش آیا ، لیکن اس واقعہ کا ویڈیو گزشتہ روز وائرل ہوگیا ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کیس درج کرلیا ہے اور ضلع انتظامیہ نے نائب ضلع مجسٹریٹ کی قیادت میں جانچ شروع کردی ۔ کوچنگ مرکز کی انتظامیہ کو آج طالب علم کے والد سمیت ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر کے دفتر میں طلب کیا گیا اور ان کے بیانات قلمبند کئے گئے ۔


ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسعد نے بتایا کہ معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بچے نے پٹائی کے بارے میں اپنے والدین کو بھی نہیں بتایا تھا نہ ہی اس کی شکایت کی تھی ، لیکن اُس کی ایک ہم جماعت طالب علم نے اطلاعات کے مطابق ویڈیو بنالیا جب اس کی پٹائی کی جارہی تھی ۔


کوچنگ مرکز کے منتظم ڈاکٹر سجاد نے نیوز 18  کو بتایا کہ انھیں بھی اس معاملہ کے بارے میں ویڈیو کے ذریعہ ہی پتہ چلا ۔ انھوں نے والدین اور عوام سے معافی  مانگی ہے اور کہا کہ ملزم کو سزا ملنی چاہئے ۔ ادھر عوام میں بھی اس واقعہ کو لے کر کافی غم و غصہ ہے ۔


سرینگر میں  کئی لوگ  اس بارے میں اپنی ناراضگی سوشل میڈیا پر ظاہر کررہے ہیں ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ بچے پہلے سے ہی ذہنی تناو کے شکار ہیں اور پھراگر اساتذہ ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں گے ، تو پھر ان کی حالت بد تر ہوجائے گی ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوچنگ مراکز چلانے والوں کو اساتذہ کی تربیت کرنی چاہئے کہ وہ طلبہ کے ساتھ کس طرح پیش آئیں ۔ ملزم اُستاد فی الحال پولیس حراست میں ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 15, 2021 10:10 PM IST