ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : سرکاری اسپتال اور پرائیویٹ کلینک کی بلڈ ٹیسٹ رپورٹ میں دکھا حیران کن فرق ، لوگوں نے کیا جانچ کا مطالبہ

ڈسٹرکٹ اسپتال ہندوارہ میں واقع سرکاری لیباریٹری سے ایک خاتون مریض کے خون کے نمونے کی تشخیص کا حیران کن نتیجہ برآمد ہونے پر لوگوں نے اسپتال انتظامیہ پر سوالات کھڑے کئے ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : سرکاری اسپتال اور پرائیویٹ کلینک کی بلڈ ٹیسٹ رپورٹ میں دکھا حیران کن فرق ، لوگوں نے کیا جانچ کا مطالبہ
جموں و کشمیر : سرکاری اسپتال اور پرائیویٹ کلینک کی بلڈ ٹیسٹ رپورٹ میں دکھا حیران کن فرق ، لوگوں نے کیا جانچ کا مطالبہ

ہندوارہ : ڈسٹرکٹ اسپتال ہندوارہ میں واقع سرکاری  لیباریٹری سے ایک خاتون مریض کے خون کے نمونے کی تشخیص کا حیران کن نتیجہ برآمد ہونے پر لوگوں نے اسپتال انتظامیہ پر سوالات کھڑے کئے ہیں ۔ ٹیسٹ کے دوران مریض میں محض تین پوائنٹ خون دکھایا گیا، جس کے باعث مریض سمیت پورے اہل خانہ پریشان ہوگئے ۔


تفصیلات کے مطابق چھوٹی پورہ گاوں سے تعلق رکھنے والی فضی بیگم نامی ایک خاتون کو ان کے اہل خانہ نے جسم میں سستی کی شکایت کے بعد ڈسٹرکٹ اسپتال ہندوارہ لے گئے ، جہاں پر اسپتال میں تعینات ڈاکٹر نے ان کو بلڈ ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا ، جس کے بعد اس کا اسپتال کے اندر واقع لیباریٹری پر ٹیسٹ کرایا گیا  اور رپورٹ آنے کے بعد خاتون میں صرف تین پوائنٹ خون دکھایا گیا ۔


بقول ان کے اس کے بعد ڈاکٹروں نے مریض کو فوری سرینگر اسپتال منتقل ہونے کا مشورہ دیا کہا کہ خاتون کی حالت خراب ہے ۔ تاہم اہل خانہ نے دیر شام گنے تک انتظار کرنے کے بعد نزدیکی کلنیک پر دوبارہ خون کا ٹیسٹ کرایا ، جہاں دس پوائنٹ بلڈ دکھایا گیا ۔ دونوں ٹیسٹ رپورٹ میں فرق حیران کرنے والا تھا ۔


اس واقعہ کے بعد اہل خانہ اور عوام کے دباؤ کے درمیان اسپتال انتظامیہ نے معاملہ کی جانچ شروع کردی اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نصار احمد ڈسٹرکٹ اسپتال ہندوارہ نے نیوز 18 کو بتایا کہ معاملہ کی جانچ کے احکامات دے گئے ہیں ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ مشینیں نئی نصب کی گی تھیں ۔ لہذا اس کے نتائج کے حوالے سے کچھ غلطیاں ہوسکتی ہیں ۔

ادھر اسپتال میں زیر اعلاج مریضوں نے بھی نیوز 18 کو اسپتال میں واقع لیباریٹری پرسوال اٹھائے ۔ اہل خانہ اور مریض نے معاملہ کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 03, 2021 11:35 PM IST