ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ائیر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کیس میں یاسین ملک اور چھ دیگر کے خلاف فرد جرم عائد ، لگائی گئیں یہ سنگین دفعات

تین دہائی پرانے اس مقدمے میں یاسین ملک کے علاوہ جن دیگر افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں علی محمد میر، منظور احمد صوفی عرف مصطفیٰ، جاوید احمد میر عرف نلکہ، نانا جی عرف سلیم، جاوید احمد زرگر اور شوکت احمد بخشی شامل ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 16, 2020 09:01 PM IST
  • Share this:
ائیر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کیس میں یاسین ملک اور چھ دیگر کے خلاف فرد جرم عائد ، لگائی گئیں یہ سنگین دفعات
ائیر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کیس میں یاسین ملک اور چھ دیگر کے خلاف فرد جرم عائد

جموں کی ایک ٹاڈا عدالت نے پیر کے روز 1990 میں چار انڈین ایئر فورس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں کالعدم تنظیم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر چھ افراد کے خلاف فرد جرم عائد کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں ٹاڈا کورٹ نے چار آئی اے ایف اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں سی بی آئی اور وکیل صفائی کے دلائل سننے کے بعد کالعدم تنظیم جے کے ایل ایف کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر چھ افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی۔ ان کے خلاف دفعات 302، 307 آر پی سی، دفعہ 3 (3) اور ٹاڈا ایکٹ 1987 کی دفعہ 4 (1)، آرمس ایکٹ 1959 کی دفعہ 120 بی آف آر پی سی کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔


رنبیر پینل کوڈ ، ٹاڈا اور آرمس ایکٹ کی متذکرہ دفعات قتل، اقدام قتل، مجرمانہ سازش ، غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق ہیں۔ ٹاڈا عدالت نے تحقیقاتی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ گواہوں کو 30 مارچ تک عدالت میں پیش کرے ۔تین دہائی پرانے اس مقدمے میں یاسین ملک کے علاوہ جن دیگر افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے ان میں علی محمد میر، منظور احمد صوفی عرف مصطفیٰ، جاوید احمد میر عرف نلکہ، نانا جی عرف سلیم، جاوید احمد زرگر اور شوکت احمد بخشی شامل ہیں۔


ذرائع نے بتایا کہ 14 مارچ کو ملزمان پر اس وجہ سے فرد جرم عائد نہیں ہوسکی تھی کیونکہ یاسین ملک اور شوکت احمد بخشی عدالت میں حاضر نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کی حاضری پیر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے یقینی بنائی گئی ۔ یاسین ملک اور شوکت بخشی بالترتیب دلی کی تہاڑ جیل اور اترپردیش کی امبیڈکر نگر جیل میں بند ہیں۔ ٹاڈا عدالت نے ہفتہ کو کہا تھا کہ آئی اے ایف اہلکاروں کے قتل کے معاملے میں یاسین ملک کے خلاف بادی النظر میں کافی ثبوت ہیں ، جن کی بناء پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکتا ہے ۔


ایک رپورٹ میں مقدمے میں سی بی آئی کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر راکیش سنگھ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سات میں سے پانچ ملزمان کو ٹاڈا عدالت میں پیش کیا جبکہ یاسین ملک اور شوکت بخشی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں حاضر رہے۔ عدالت نے فرد جرم کی کاپیاں تہاڑ اور امبیڈکر نگر جیل بھی بھیج دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک اور شوکت بخشی نے اپنے آپ کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ٹرائل کا مطالبہ کیا ۔ معاملہ کی اگلی سماعت 30 مارچ کو ہوگی۔
First published: Mar 16, 2020 09:01 PM IST