உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر: سرینگر کے عیدگاہ علاقے میں فائرنگ، دہشت گردوں نے دو اسکول ٹیچرس کا کیا قتل

    Jammu-Kashmir Terrorist Attack: بتایا گیا ہے کہ فائرنگ سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں ہوئی ،جس میں دو اساتذہ  کی موت ہوگئی ہے۔

    Jammu-Kashmir Terrorist Attack: بتایا گیا ہے کہ فائرنگ سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں ہوئی ،جس میں دو اساتذہ کی موت ہوگئی ہے۔

    Jammu-Kashmir Terrorist Attack: بتایا گیا ہے کہ فائرنگ سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں ہوئی ،جس میں دو اساتذہ کی موت ہوگئی ہے۔

    • Share this:
      Jammu-Kashmir Terrorist Attack: سری نگر۔ ایک بار پھر عام شہری جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔  بتایا گیا ہے کہ فائرنگ سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں ہوئی ،جس میں دو اساتذہ  کی موت ہوگئی ہے۔  صفا کدل میں نامعلوم حملہ آوروں نے اسکول کی پرنسپل اور ایک خاتون ٹیچر کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ خدشہ ہے کہ حملہ آور دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ ستیندر کور اور دیپک کور ، جو اس حملے میں مارے گئے ہیں، آلوچی باغ کے رہائشی تھے۔
      جمعرات کو سری نگر میں دن کی روشنی میں دہشت گردوں نے دو اساتذہ کا قتل کر دیا۔ دونوں سکھ اور کشمیری پنڈت اساتذہ کی شناخت ستیندر کور اور دیپک چند کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں صفا کدل کے الوچی باغ کے رہنے والے تھے۔

      ایک دن پہلے دہشت گردوں نے کشمیر میں تین افراد کا قتل کیا تھا۔ ان میں سری نگر کے ایک بڑے دوا کاروباری 70 سالہ مکھن لال بندرو ، کھانے کا اسٹال لگانے والے ویریندر پاسوان تھے اور ٹیکسی اسٹینڈ کے چیئرمین محمد شفیع لون کا نام شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں نے ان تینوں کا قتل محض ایک گھنٹے کے اندر کیا تھا۔
      ہندستان کے سر کا تاج کہے جانے والی یوٹی جموں وکشمیر اپنی خوبصورتی خود بیان کرتا ہ لیکن جموں کشمیر پر پھیلا دہشت گردی کا سایہ لگاتار یہاں کے پرسکون ماحول کو، یہاں کے بھائی چارے کو کئی سالوں سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ چاہے وہ 90 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کا گھر سے بے گھر ہونا ہو۔ دہشت گرد مسلسل کشمیر میں بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل کرکے جموں کشمیر کا ماحول تباہ کرنے میں لگے ہیں۔ اگر ہم صرف اس سال کشمیر وادی میں ہونے والے قتل کی بات کریں تو تقریباً 23 کے آس پاس سیاسی کارکنان اور عام شہریوں کا قتل کیا گیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: