ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر کیلئے راحت کی خبر ، ماضی قریب میں بلیک فنگس کا کوئی معاملہ نہیں آیا سامنے ، تاہم طبی ماہرین نے لوگوں کو دیا یہ اہم مشورہ

Jammu and Kashmir News : ڈاکٹر ستیش گپتا نے کہا کہ کووڈ سے صحتیاب ہونے والے افراد کو بعد میں بھی احتیاط برتنی چاہیے ۔ تاکہ انہیں اس طرح کے انفیکشن سے نبردآزما نہ ہونا پڑے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر کیلئے راحت کی خبر ، ماضی قریب میں بلیک فنگس کا کوئی معاملہ نہیں آیا سامنے ، تاہم طبی ماہرین نے لوگوں کو دیا یہ اہم مشورہ
جموں و کشمیر کیلئے راحت کی خبر ، ماضی قریب میں بلیک فنگس کا کوئی معاملہ نہیں آیا سامنے ، تاہم طبی ماہرین نے لوگوں کو دیا یہ اہم مشورہ

جموں و کشمیر: کورونا وبا سے پریشان حال لوگ ابھی حالات کا مقابلہ کر ہی رہے ہیں کہ ایک اور بیماری بلیک فنگس نے ملک کی کئی ریاستوں میں دستک دیدی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی فکرمندی میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ کووڈ بیماری سے صحتیاب ہو جانے کے بعد چند لوگ بلیک فنگس نامی اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے ، جس کا اگر وقت رہتے علاج نہ کیا گیا ، تو یہ مریض کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ۔ اگرچہ یہ بیماری ملک کی کئی ریاستوں میں نمودار ہوچکی ہے ۔ تاہم جموں و کشمیر میں ماضی قریب میں بلیک فنگس کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے ۔


جموں میڈیکل کالج کے اپتھامولجی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر ستیش گپتا کے مطابق یہ انفیکشن پہلے بھی لوگوں میں دیکھا گیا ہے ۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے بلیک فنگس کے معاملات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کووڈ کی دوسری لہر کے بعد جموں میں اس طرح کے انفیکشن میں مبتلا کوئی بھی مریض نہیں ملا ہے ۔ ڈاکٹر ستیش گپتا نے کہا کہ  گزشتہ چند ماہ میں اس انفیکشن میں مبتلا کوئی بھی مریض ہمارے اسپتال میں نہیں آیا ہے ۔ گزشتہ سال نومبر مہینے میں بلیک فنگس میں مبتلا ایک مریض کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ، جس کا وقت رہتے ہی علاج کیا گیا اور صحت یاب ہونے کے بعد اسے اسپتال سے رخصت کیا گیا۔


ڈاکٹر ستیش گپتا نے کہا کہ کووڈ سے صحتیاب ہونے والے افراد کو بعد میں بھی احتیاط برتنی چاہیے ۔ تاکہ انہیں اس طرح کے انفیکشن سے نبردآزما نہ ہونا پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ بلیک فنگس کے انفیکشن کا خطرہ کووڈ کو مات دینے والے ان افراد میں زیادہ رہتا ہے ، جن کا بلڈ شوگر کنٹرول نہ ہو پاتا ہو اور جو زیادہ وقت تک بغیر ڈاکٹر کی صلاح کے اسٹیریورایڈس کا استعمال کرتے ہو ۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی بیماری میں مبتلا کم قوت مدافعت رکھنے والے افراد میں بھی اس انفیکشن کا زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔


ڈاکٹر ستیش گپتا نے کہا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کیلئے ضروری احتیاط برتیں اور ڈاکٹر کے صلاح مشورے کے بغیر اسٹیورایڈس کا استعمال کرنے سے اجتناب کریں ۔ ڈاکٹر گپتا نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ Conjunctivitis کو بلیک فنگس سے تشبیہ نہ دیں ۔ انہوں نے کہا کج  کنجیکٹیوائٹس آنکھوں میں لگنے والی ایک عام بیماری ہے ، جس کا معمول کے مطابق علاج کیا جاتا ہے ، جبکہ بلیک فنگس بیماری کی علامات کچھ اس طرح ہیں : یہ انفیکشن ہونے پر بیماری میں مبتلا مریض کی ناک سے خون یا کالے رنگ کامائع بہنا ، آنکھوں کے پاس چہرے میں سوجن ، درد اور آنکھوں کی بینائی ختم ہونا شامل ہے ۔ بلیک فنگس سے محفوظ رہنے کے لیے لوگوں سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ کووڈ بیماری سے صحتیاب ہونے کے بعد بھی تمام احتیاطی تدابیر کو معمول کی زندگی کا حصہ بنایئں ۔

دریں اثنا جموں و کشمیر انتظامیہ نے کووڈ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی اور اقدامات کا اعلان کیا ۔ ان اقدامات کے تحت سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد ملازمین کو ہی ہر روز دفتر آنا ہوگا ، جبکہ باقی ماندہ 50 فیصد ملازمین گھروں سے ہی دفتری کام کاج میں شریک رہیں گے۔ تاہم انڈر سکریٹری اور دیگر اونچے عہدوں پر فائز افسران معمول کے مطابق دفاتر میں اپنا کام کاج انجام دیتے رہیں گے ۔ سرکاری دفاتر میں بایومیٹرک حاضری لگاتار معطل رہے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 18, 2021 07:22 PM IST