ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : مارننگ واک پر نکلی 65 سالہ معمر خاتون کی اجتماعی آبروریزی ، تین گرفتار

جموں و کشمیر پولیس نے ضلع سانبہ میں رواں برس 12 جنوری کو پیش آنے والے ایک 65 سالہ معمر خاتون کی اجتماعی عصمت دری کے معاملے کو حل کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 23, 2021 08:37 AM IST
  • Share this:
جموں و کشمیر : مارننگ واک پر نکلی 65 سالہ معمر خاتون کی اجتماعی آبروریزی ، تین گرفتار
جموں و کشمیر : مارننگ واک پر نکلی 65 سالہ معمر خاتون کی اجتماعی آبروریزی ، تین گرفتار

جموں و کشمیر پولیس نے ضلع سانبہ میں رواں برس 12 جنوری کو پیش آنے والے ایک 65 سالہ معمر خاتون کی اجتماعی عصمت دری کے معاملے کو حل کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایس ایس پی سانبہ راجیش شرما نے گزشتہ روز سانبہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: 'بارہ جنوری کو ایک 65 سالہ خاتون اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ ایک تحریری درخواست لے کر پولیس تھانہ وجے پور آئیں۔ درخواست میں لکھا تھا کہ معمول کی طرح جب وہ بارہ جنوری کو صبح چھ بجے راہیہ – سوچانی روڈ پر مارننگ واک کے لئے نکلیں تو دو لوگ ایک نامعلوم گاڑی سے اترے اور مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے'۔


انہوں نے درخواست کا متن پڑھتے ہوئے کہا: 'اس کے بعد ایک نامعلوم جگہ پر لے گئے اور وہاں پر میرے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور دھمکی دی کہ یہ کسی کو نہیں بتانا ہے۔ انہوں نے میرے سر پر بھی وار کیا'۔ ایس ایس پی نے کہا کہ اس تحریری درخواست پر پولیس تھانہ وجے پور میں زیر دفعات 376 اور 323 مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا: 'متاثرہ خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ یہ ایک بلائنڈ کیس تھا۔ جرم کرنے والے نامعلوم تھے۔ ان کی گاڑی بھی نامعلوم تھی'۔


راجیش شرما نے کہا: 'پولیس نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر اس علاقے میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی۔ علاقے میں ہونے والی کالنگ تفصیلات حاصل کی گئیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریکی بینی سے جائزہ لینے اور اپنی ہیومن انٹیلی جنس کو استعمال کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جرم کے ارتکاب میں سیاہ رنگ کی بلیرو گاڑی استعمال ہوئی ہے'۔


انہوں نے کہا: 'ہم نے سانبہ، کٹھوعہ اور جموں اضلاع کی تمام سیاہ رنگ کی بلیرو گاڑیوں کی تفصیلات اے آر ٹی اووز دفاتر سے حاصل کیں۔ یہ سب کرنے کے بعد ہم ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تفتیش کے دوران ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس جرم کو چار سے پانچ لوگوں نے انجام دیا ہے۔ اس میں کچھ لوگ براہ راست اور کچھ بلواسطہ طور پر ملوث ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا: 'تین ملزمین گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ ان کی شناخت محمد انور، محمد شوکت اور محمد دین کے طور پر ہوئی ہے۔ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں جلد عمل میں لائی جائیں گی۔ ان لوگوں کی گرفتاری کے ساتھ یہ معاملہ پوری طرح سے حل ہو چکا ہے'۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 23, 2021 08:37 AM IST