உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : دو گھنٹے میں تین ہلاکتیں ، پولیس اور سیکورٹی فورسز کیلئے ایک نیا چیلنج

    جموں و کشمیر : دو گھنٹے میں تین ہلاکتیں ، پولیس اور سیکورٹی فورسز کیلئے ایک نیا چیلنج

    جموں و کشمیر : دو گھنٹے میں تین ہلاکتیں ، پولیس اور سیکورٹی فورسز کیلئے ایک نیا چیلنج

    Jammu and Kashmir News : کشمیر نے منگل کو ایک خونی شام دیکھی جب ملی ٹینٹنوں نے وادی کے مختلف مقامات پرتین عام شہریوں کا قتل کردیا ، جن میں دو سرینگر میں اور ایک جنوبی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں قتل کیا گیا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کافی تعداد میں لوگ سرینگر کے اندرا نگر میں معروف کاروباری شخصیت ڈاکٹر مکھن لال بندرو کی ہلاکت پر ان کے خاندان سے تعزیت پرسی کے لئے پہنچے ۔ اندرا نگر میں لوگوں نے غم زدہ خاندان کی ڈھارس باندھی ۔ پانچ اکتوبر کی شام کو آنجہانی بندرو سرینگر کے اقبال پارک علاقے میں اپنے کاروباری ادارے میں اپنے معمول کے مطابق کام میں مصروف تھے کہ اسی دوران مسلح ملی ٹینٹنوں نے قریب سے ان پر گولیاں چلائیں ، جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے۔ انہیں فوراً اسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔ مکھن لال گزشتہ چار دہائیوں سے کشمیر میں زیادہ عرصے سے دوائیوں کا کاروبار کررہے تھے اور انہوں نے کشمیر میں ہی رہنے کو ترجیح دی جب وادی کشمیر میں ملی ٹینسی کے بعد کشمیری پنڈتوں کو وادی سے ہجرت کرنی پڑی۔

    ادویات کے شعبے میں ان کی خدمات کی وجہ سے مکھن لال بندرو عام لوگوں میں اچھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔  یہ بات آج اس وقت واضح ہوئی جب کافی تعداد میں لوگ ان کی ہلاکت پر سوگ منانے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔ ملی ٹینٹنوں کے ہاتھوں اپنے والد کی ہلاکت پر ان کے بیٹے سدھارتھ بندرو کوگہراصدمہ ہوا ۔ سدھارتھ ایک ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک حرکت ہے کہ ان کے والد کو ملی ٹینٹوں نے قتل کیا۔  انہوں نے کہا کہ ان کے والد سادہ لوح زندگی گزارتے تھے اور وہ توقع کر رہے تھے کہ وہ قدرتی موت مریں گے۔  انہوں نے کہا کہ آنجہانی مکھن لال بندرو ایک نیک سیرت انسان تھے۔

    سدھارتھ بندرو نے کہا کہ میں باہر کی ریاست میں کام کر رہا تھا ، لیکن ان کے والد نے انہیں اپنے لوگوں کی خدمت کے لئے وادی واپس آنے کی ترغیب دی اوروہ اپنے والد کی فرمائش پر راضی ہوگئے ۔ لیکن یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈاکٹر مکھن لال بندرو کو ہم سے اچانک چھین کیا گیا۔ مکھن لال کی بیٹی شردھا نے کہا کہ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی نہیں ہے ، کیونکہ ان کے والد بہادر کی موت مرے۔ انہوں نے کہاکہ میں ان ملی ٹینٹنوں سے پوچھ رہی ہوں ، جنہوں نے میرے والد کو گولی مار دی ، میرے سامنے آؤ اور کچھ تعلیم حاصل کرو۔  میرے والد نے مجھے تعلیم دی اور سیاستدانوں نے آپ کو بندوقیں اور پتھر دئے۔  پتھروں اور بندوقوں سے لڑنا بزدلی ہے۔

    ادھر کئی سیاسی لیڈر بھی مکھن لال بندرو کے انتقال پر تعزیت کے لیے بندرو کے گھر پہنچے۔ ممبر پارلیمینٹ اورجموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ آنجہانی بندرو کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔  انہوں نے کہا کہ آنجہانی بندرو نے وادی میں واپس رہنے کو ترجیح دی جبکہ کشمیری پنڈتوں کی اکثریت نے نوے کی دہائی کے اوائل میں کشمیر میں دہشت گردی کی وجہ سے ملک کے دوسرے حصوں میں نقل مکانی کی۔  انہوں نے کہا کہ آنجہانی بندرو نے کشمیر کے لوگوں کی خدمت کی ہے اور شیطان صفت ملی ٹینٹنوں نے انہیں قتل کیا ہے۔ جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے اس فعل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم کشمیری ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ انہوں نے ملی ٹینٹنوں کی اس حرکت کو شرمناک قرار دیا۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر نے منگل یعنی پانچ اکتوبر کو ایک خونی شام دیکھی جب ملی ٹینٹنوں نے وادی کے مختلف مقامات پرتین عام  شہریوں کا قتل کردیا ، جن میں دو سرینگر میں اور ایک جنوبی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں قتل کیا گیا۔ ملی ٹینٹنوں کی جانب سے کی جانے والی ٹارگٹ کلنگ میں سرینگر کے ایک معروف تاجر ڈاکٹر مکھن لال بندرو ، بہگل پور بہار کا ایک پھیری والے بیریندر پاسوان اور شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک ٹرانسپورٹر محمد شفیع لون شامل ہیں۔ان ہلاکتوں نے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کردیا ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: