ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مزید 37 آکسیجن جنریٹنگ پلانٹس جلد ہوں گے قائم

Jammu and Kashmir News : ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پولے نے کہا ہے کہ کشمیر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی کو مزید بڑھانے کیلئے اسپتالوں میں آکسیجن جنریٹنگ پلانٹس قائم کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ آکسیجن کے مناسب استعمال کیلئے سرکار نے اقدامات اٹھائے ہیں ۔

  • Share this:
کشمیر میں آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مزید 37 آکسیجن جنریٹنگ پلانٹس جلد ہوں گے قائم
کشمیر میں آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مزید 37 آکسیجن جنریٹنگ پلانٹس جلد ہوں گے قائم

جموں و کشمیر:  ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پولے نے کہا ہے کہ کشمیر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی کو مزید بڑھانے کیلئے اسپتالوں میں آکسیجن جنریٹنگ پلانٹس قائم کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ آکسیجن کے مناسب استعمال کیلئے سرکار نے اقدامات اٹھائے ہیں ۔ اننت ناگ میں اپنے دورے کے دوران ڈویژنل کمشنر نے ان باتوں کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن کی فراہمی کو مزید بڑھانے کیلئے وادی کے اہم اسپتالوں میں 37 نئے آکسیجن جنریٹنگ پلانٹس قائم کئے جا رہے ہیں ، جن میں  سے 20 پلانٹ اب تک لگ چکے ہیں ۔ پولے نے کہا کہ نجی آکسیجن جنریٹنگ پلانٹ 17 ہزار کیوبک میٹر آکسیجن کو جنریٹ کر رہے ہیں جبکہ اسپتالوں میں درکار آکسیجن کی تعداد ابھی 14 ہزار کے آس پاس ہے ، اس لحاظ سے کشمیر میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے ۔


آکسیجن کے مناسب استعمال پر پی کے پولے نے کہا کہ اس حوالے سے انتظامیہ محکمہ صحت کے اشتراک سے ہر ضلع میں کمیٹی تشکیل دینے جا رہی ہے ، جو اسپتالوں میں آکسیجن کے صحیح استعمال کو ممکن بنانے کیلئے سرگرم عمل رہیں گی ۔ یہ کمیٹیاں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ آکسیجن ضائع نہ ہو اور مریضوں کو ضرورت کے مطابق ہی آکسیجن فراہم کیا جا رہا ہے ۔


ڈویژنل کمشنر نے ڈی سی اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا و دیگر افسران کے ہمراہ بجبہاڑہ کے ٹراما اسپتال اور گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں بھی کووڈ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتظامات کا جائزہ لیا ۔ ڈویژنل کمشنر نے کووڈ کنٹرول روم کا بھی معائنہ کیا ۔ انہوں نے عوام سے افواہوں پر کان دھرنے کی بجائے سخت احتیاطی تدابیر سے کام لینے اور گھروں کے اندر ہی رہنے کی اپیل کی ۔ جبکہ متعلقین کو کووڈ وبا کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی بھی ہدایت دی گئی ۔


ڈویژنل کمشنر کشمیر نے مزید کہا کہ 18 سے 45 برس کے افراد کیلئے ویکسینیشن عمل میں جلد ہی سرعت لائی جائے گی اور ترجیحی بنیادوں پر اس گروپ سے منسلک افراد کی ویکسینیشن کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن عمل کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سب سے پہلے ان لوگوں کو ، جن میں میڈیا کے افراد بھی شامل ہیں ، ویکسینیشن فراہم کی جائے گی جنہیں کووڈ سے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات ہیں ۔

ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پولے نے ڈی سی آفس میں پکار ہیلپ لائن کا افتتاح کیا ، جو چوبیس گھنٹے کام کرے گا اور ضلع کے عوام کے لئے انتظامیہ کے ساتھ اپنی شکایات درج کرنے کے لئے ایک نقطہ رابطے کا کام کرے گا ۔ ڈویژنل کمشنر نے جی ایم سی اننت ناگ کا دورہ کیا اور حال ہی میں کمیشنڈ 1000 ایل پی ایم اور پرانے 350 ایل پی ایم آکسیجن پلانٹوں کے علاوہ کووڈ سرشار وارڈ کے کام کا جائزہ لیا ۔ پرنسپل جی ایم سی نے ڈیو کام کو بتایا کہ 1000 ایل پی ایم پلانٹ مریضوں کی تیز بہاؤ آکسیجن کی ضروریات کو پورا کررہا ہے اور اسی طرح کی صلاحیت (1000 ایل پی ایم) پلانٹ اگلے دو دن میں شروع کردیا جائے گا ۔ انہوں نے پرنسپل جی ایم سی کو ہدایت کی کہ وہ مناسب ٹیمیں تشکیل دیں ، جو آکسیجن پلانٹوں کے کام کی نگرانی کرنے کے علاوہ اسپتال کا ہنگامی آڈٹ کریں گی اور اہم نکات کو دور کریں گی۔

ڈاکٹروں کی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے غیر ہنگامی سرجریوں کو موخر کرنے پر زور دیا ۔ تاکہ انسانی اور مادی وسائل کو موثر کووڈ تخفیف کے لئے استعمال کیا جاسکے ۔ انہوں نے کووڈ وارڈوں میں حاضریوں کی داخلہ کو کم سے کم کرنے ، کووڈ اور غیر کووڈ مریضوں کے لئے الگ الگ اندراج اور خارجی راستوں سے متعلق رضاکاروں (سابق فوجیوں ، ایس ڈی آر ایف وغیرہ) کو تعینات کرنے کے علاوہ وائرس کے خطرے کو کم کرنے کے لئے بھی ہدایات منظور کیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 07, 2021 09:16 PM IST