ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ڈل جھیل میں ڈیڑھ سال بعد لوٹی سیاحوں سے رونق ، ان لاک کشمیر مہم سے سیاحتی شعبہ کو کافی امید

ممبئی اور کشمیر کے ٹریول ایجنٹوں کی طرف سے شروع کی گئی ان لاک کشمیر مہم کے تحت سیاحوں کا ایک بڑا گروپ ممبئی سے سرینگر پہنچا ۔ ان لوگوں کا والہانہ استقبال کیا گیا۔

  • Share this:
ڈل جھیل میں ڈیڑھ سال بعد لوٹی سیاحوں سے رونق ، ان لاک کشمیر مہم سے سیاحتی شعبہ کو کافی امید
ڈل جھیل میں ڈیڑھ سال بعد لوٹی سیاحوں سے رونق ، ان لاک کشمیر مہم سے سیاحتی شعبہ کو کافی امید

ایک لمبے عرصہ کے بعد آج ڈل جھیل میں سیاحوں کی چہل پہل سے پورے علاقے میں رونق چھا گئی ۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کالعدم قرار دئے جانے کے بعد اور پھر کووڈ لاک ڈاون کے چلتے کشمیر میں سیاح برائے نام ہی آئے ، جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ ہزاروں خاندان بُری طرح متاثر ہوئے ۔ ممبئی سے 70 سیاحوں کا گروپ ان لاک کشمیر مہم کے تحت یہاں پہنچا ۔ اس مہم کے روح رواں پوجا ٹورس اینڈ ٹریولز کے مالک ستیش بھائی شاہ سمیت ان کے کشمیری ساتھی از خود ان سیاحوں کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کشمیر کے ڈائریکٹر ٹورزم نثار احمد مہمانوں کا استقبال کرنے کے لئے ڈل جھیل پر پہنچے تھے ۔ ستیش شاہ کا کہنا ہے کہ یہ آغاز ہے ، اس مہم کا آگے کچھ دنوں میں مزید سیاحوں کے گروپ یہاں آئیں گے اور زمین پر اس جنت کے سحر انگیز نظاروں سے لطف اندوز ہوں گے ۔


ڈائریکٹر محکمہ سیاحت کشمیر نثاراحمد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اب سیاحوں کی آمد بحال ہونے لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب روزانہ 600 سیاح ہوائی راستہ سے کشمیر کا رُخ کررہے ہیں ۔ کشمیر کے لئے سیاحوں کی یہ تعداد کہنے میں تو عجیب سی بات ہے ، لیکن پچھلے ڈیڑھ سال کی ویرانی کو دیکھتے ہوئے حوصلہ بخش ہے ۔ ڈل جھیل پر شکارا والوں کی خوشی دیکھتے ہی بنتی تھی ۔


بزرگ خاتون شردھا کا کہنا تھا کہ میں ممبئی کے لوگوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ کووڈ کو بھول جاو اور کشمیر چلے آو ۔
بزرگ خاتون شردھا کا کہنا تھا کہ میں ممبئی کے لوگوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ کووڈ کو بھول جاو اور کشمیر چلے آو ۔


ادھر سیاح بھی کافی خوش تھے ۔ ایک خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ ان کو لگتا ہے کہ جیسے ان کا جسم اور روح ایک قید خانے سے آزاد ہوا ہے ۔ ایک بزرگ خاتون شردھا کا کہنا تھا کہ میں ممبئی کے لوگوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ کووڈ کو بھول جاو اور کشمیر  چلے آو ۔ ایک مقامی ٹریول ایجنٹ نے جذباتی ہوکر کہا کہ اب کشمیر کے اچھے دن آئیں گے ۔ کشمیر میں اگست 2019 تک ہزاروں سیاح موجود تھے ، جو حکومت کی طرف سے اگست 4 تک ریاست سے باہر نکالے گئے ۔ اس کے بعد پانچ اگست کو دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد کئی مہینوں تک کرفیو جیسا سماں رہا ۔

سال 2020 میں سیاحت سے وابستہ لوگ ابھی سیاحوں کی راہ دیکھ رہے تھے کہ کووڈ 19 نے پوری دنیا میں تباہی پھیلادی ۔ سیاحت سے وابستہ لوگ فی الحال ملکی سیاحوں سے ہی اُمید لگائے بیٹھے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 21, 2020 09:26 PM IST