உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر: راجوری ضلع میں اگست میں دوانکاوٹر ، کیا کشمیر کے بعد اب جموں ہے ملی ٹینٹنوں کے نشانے پر ، جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین

    کیا اب کشمیر کے بعد اب جموں ہے ملی ٹینٹنوں کے نشانے پر ، جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین ۔ فائل فوٹو ۔

    کیا اب کشمیر کے بعد اب جموں ہے ملی ٹینٹنوں کے نشانے پر ، جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین ۔ فائل فوٹو ۔

    Jammu and Kashmir News : گزشتہ چند ماہ سے جموں خطے کے سرحد اور کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں ملی ٹینٹنوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ راجوری ضلع میں انیس اگست کو تھنہ منڈی علاقہ میں سیکورٹی افواج اور ملی ٹینٹنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ۔ اس جھڑپ میں ایک ملی ٹینٹ کو ہلاک کردیا گیا ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : گزشتہ چند ماہ سے جموں خطے کے سرحد اور کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں ملی ٹینٹنوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ راجوری ضلع میں انیس اگست کو تھنہ منڈی علاقہ میں سیکورٹی افواج اور ملی ٹینٹنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ۔ اس جھڑپ میں ایک ملی ٹینٹ کو ہلاک کردیا گیا ۔ آپریشن کے دوران فوج کا ایک جونئیر کمیشنڈ افسر صوبے دار رام سنگھ  بھی شہید ہوگئے ۔ دفاعی ترجمان نے جموں میں بتایا کہ فوج کو آج صبح ڈھیرہ کی گلی علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی ، جس کے بعد فوج نے علاقہ کا محاصرہ کیا ۔ جیسے ہی فوج اس مقام تک پہنچ گئی ، جہاں ملی ٹینٹنوں کے چھپے ہونے کا خدشہ تھا ، ملی ٹینٹنوں نے فوج پر فائرنگ کی ، جس میں ایک جے سی او سمیت فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔ اگر چہ دونوں کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا ۔ تاہم جے سی او زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ۔ آپریشن کے دوران ایک ملی ٹینٹ بھی ہلاک کردیا گیا ۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ کے دوران اس علاقہ میں یہ دوسرا انکاؤنٹر ہے ۔ اس سے پہلے چھ اگست کو تھنہ منڈی علاقہ میں ہی دو ملی ٹینٹنوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں گزشتہ کئی ماہ سے جموں کے سرحدی علاقوں میں ملیٹینسی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے ۔ جن میں ڈرون کے ذریعہ ہتھیار گرانا بھی شامل ہے ۔ جموں خطے میں ملی ٹینسی کی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کے واقعات کیا اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کشمیر وادی کے بعد اب جموں خطہ ملی ٹینٹنوں کے نشانے پر ہے ۔ اس بارے میں ماہرین الگ الگ رائے رکھتے ہیں۔

    جموں وکشمیر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید کا کہنا ہے کہ جموں کے کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں ملیٹنسی کی سرگرمیاں بڑھانے کا مقصد زیادہ سے زیادہ ملی ٹینٹنوں کو جموں و کشمیر میں بالخصوص وادی کشمیر میں داخل کرنا ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا کہ انیس سو نوے کے اوائل میں کشمیر وادی میں ملی ٹینسی کی شروعات کے فوراً بعد پاکستان نے راجوری اور پونچھ سیکٹر سے ملی ٹینٹنوں کو کنٹرول لائن کے اس پار داخل کرنے کی کوششیں شروع کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملی ٹینٹس راجوری اور پونچھ سیکٹر سے دراندازی کرنے کے بعد مغل روڑ کے متصل علاقوں سے وادی کشمیر کے شوپیان ضلع اور بعد میں کشمیر کے مختلف حصوں میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تاکہ کشمیر میں خوف ودہشت کے ماحول کو برقرار رکھا جاسکے ۔

    ایس پی وید نے کہاکہ پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ موسم سرما سے قبل زیادہ سے زیادہ ملی ٹینٹنوں کو کنٹرول لائن کے اس پار دھکیلا جاسکے ۔ کیونکہ موسم سرما کے بعد کشمیر اور جموں خطے کے پہاڑی علاقوں میں برفباری ہوتی ہے ، جس کے باعث دراندازی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر چوکسی برتنے سے دراندازی کی زیادہ تر کوششیں ناکام بنا دی جاتی ہیں ۔ تاہم لمبی کنٹرول لائن اور جغرافیائی حالات کے سبب دراندازی کی چند کوششیں کامیاب ہوجاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ راجوری میں حال ہی میں ایک سیاسی ورکر کے گھر پر گرینڈ دھماکہ کرنے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے  کہ پاکستان پر اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جموں وکشمیر میں سیاسی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے سے بھوکھلا گئے ہیں ۔ لہذا وہ سیاسی ورکروں کو کشمیر وادی اور جموں خطے میں بھی ان سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کے در پے ہیں اور دیوسر کلگام میں جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے لیڈر کو قتل کرنا اس کی تازہ مثال ہے ۔

    دفاعی ماہر کپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ جموں خطے کے پونچھ اور راجوری نیز کھٹوعہ اور سانبہ ڈسٹرکٹ کے سرحدی علاقوں میں ماضی میں بھی دراندازی کی کوششیں کی جاچکی ہیں ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں دراندازی کی کوششیں زیادہ تر ناکام بنا دی جاتی ہیں ۔ کیونکہ اب سرحدوں اور کنٹرول لائن پر چوکسی بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید آلات کا استعمال بھی کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے چند ماہ میں بی ایس ایف اور فوج کو جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والے بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن کے علاقوں میں مزید چوکسی بڑھانا پڑے گی ۔ چونکہ پاکستان جنگلاتی علاقوں میں برفباری ہونے سے قبل زیادہ سے زیادہ ملی ٹینٹنوں کو جموں وکشمیر میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: