உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: حالیہ برف باری کے بعد جموں-سری نگر قومی شاہراہ پر دوسرے روز بھی ٹریفک متاثر

    حالیہ برف باری اور جموں-سری نگر قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات کے بعد آج دوسرے روز بھی قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت متاثر رہی اور دن بھر درماندہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پہلے ہی ٹریفک حکام نے آج قومی شاہراہ کے بند رہنے کی اطلاع دی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی قاضی گنڈ کے قریب دن بھر مسافروں کی ایک بڑی تعداد جموں جانے کی کوشش میں نظر آئے۔

    حالیہ برف باری اور جموں-سری نگر قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات کے بعد آج دوسرے روز بھی قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت متاثر رہی اور دن بھر درماندہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پہلے ہی ٹریفک حکام نے آج قومی شاہراہ کے بند رہنے کی اطلاع دی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی قاضی گنڈ کے قریب دن بھر مسافروں کی ایک بڑی تعداد جموں جانے کی کوشش میں نظر آئے۔

    حالیہ برف باری اور جموں-سری نگر قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات کے بعد آج دوسرے روز بھی قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت متاثر رہی اور دن بھر درماندہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پہلے ہی ٹریفک حکام نے آج قومی شاہراہ کے بند رہنے کی اطلاع دی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی قاضی گنڈ کے قریب دن بھر مسافروں کی ایک بڑی تعداد جموں جانے کی کوشش میں نظر آئے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: حالیہ برف باری اور جموں-سری نگر قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات کے بعد آج دوسرے روز بھی قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت متاثر رہی اور دن بھر درماندہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پہلے ہی ٹریفک حکام نے آج قومی شاہراہ کے بند رہنے کی اطلاع دی تھی، لیکن اس کے باوجود بھی قاضی گنڈ کے قریب دن بھر مسافروں کی ایک بڑی تعداد جموں جانے کی کوشش میں نظر آئے۔ بعد میں قومی شاہراہ کو بحال کرنے کے بعد صرف درماندہ ایل ایم ویز یعنی چھوٹی مسافر بردار گاڑیوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔ جبکہ شام دیر گئے مال بردار گاڑیاں اور ٹینکروں کو آگے جانے کی اجازت دی گئی۔

    دوسری جانب ٹریفک کنٹرول یونٹ کی اطلاع کے مطابق، کل یعنی 7 جنوری کو صرف چھوٹی گاڑیوں کو موسم کی بہتری کی شرط پر دو طرفہ چلنے کی اجازت ہوگی، جبکہ بڑی اور مال بردار گاڑیوں کو صرف کشمیر سے جموں چلنے کی اجازت ہوگی۔ ٹریفک حکام نے ایک بار پھر مسافروں کو قومی شاہراہ پر جانے سے قبل متعلقہ ٹریفک کنٹرول یونٹس سے رابطہ قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    لوگوں کو تب مایوسی ہوئی جب معمول کی طرح اس بار بھی برف باری اور بارش کے بعد جموں-سری نگر قومی شاہراہ ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے دو دن بند رہی۔
    لوگوں کو تب مایوسی ہوئی جب معمول کی طرح اس بار بھی برف باری اور بارش کے بعد جموں-سری نگر قومی شاہراہ ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے دو دن بند رہی۔


    وہیں دوسری طرف انتظامیہ نے پہلے ہی پیر پنچال خطے اور جواہر ٹنل و قومی شاہراہ کے دیگر مقامات پر ایوالانچ اور پسیاں گر آنے کی وارننگ جاری کی ہے اور لوگوں سے احتیاط برتنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ وہیں لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ جموں-سری نگر قومی شاہراہ کو آل ویتھر روٹ بنانے کے انتظامیہ کے تمام تر دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ گرچہ جموں اور سری نگر کے بیچ سفری اوقات کافی کم ہوگئے ہیں، لیکن لوگوں کو امید تھی کہ اب خراب موسمی حالات اس شاہراہ پر ماضی کی طرح حاوی نہیں ہوں گے۔

    تاہم لوگوں کو تب مایوسی ہوئی جب معمول کی طرح اس بار بھی برف باری اور بارش کے بعد جموں-سری نگر قومی شاہراہ ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے دو دن بند رہی۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ قاضی گنڈ-بانہال ٹنل کے تعمیر ہونے کے باوجود بھی انہیں ٹنل کے دونوں اطراف درماندہ ہونا پڑا اور سینکڑوں لوگوں نے شدید سردی کے بیچ ٹنل کے دونوں اطراف رات گزاری۔ دیالگام کے ایک باشندے سجاد احمد کا کہنا ہے کہ بدھ کو وہ جموں سے کشمیر کی جانب روانہ ہوئے، لیکن قاضی گنڈ ٹنل کے قریب پہنچنے کے باوجود بھی وہ ٹنل پار نہیں کر سکے اور انہیں شدید سردی میں دوسرے مسافروں کے ساتھ ٹنل کے اس پار ہی رات گزارنی پڑی۔

    دہلی کے ایک سیاح راہل کا کہنا ہے کہ دراصل ٹنل کی نگراں کمپنی اور انتظامیہ بانہال کے نزدیک ٹنل کے راستے سے برف ہٹانے میں پوری طرح سے ناکام ہو گئی، جس کا خمیازہ مسافروں کو درماندہ رہ کر اٹھانا پڑا۔ لوگوں کے مطابق اگرچہ 2019 میں ہی شاہراہ کے فور لیننگ کام کو مکمل کرنے کا میعاد گزر چکا ہے، لیکن شاہراہ کی تعمیرات پر معمور تعمیراتی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہر بار پلان کو تبدیل کیا گیا اور کام کو مکمل کرنے لا عمل جاری ہے۔ جبکہ شاہراہ کی خستہ حالی اور غیر مناسب پلاننگ کی وجہ سے شاہراہ پر حادثات  اور جانوں کے زیاں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: