اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Jammu and Kashmir: ناڑی مرگ قتل عام میں شہید 24 کشمیری پنڈتوں کی برسی کے موقع پر پھر کیا گیا یہ بڑا مطالبہ

    جنوبی کشمیر کے ناڑی مرگ گاؤں میں 2003 میں آج ہی کے روز دہشت گردوں کی جانب سے شہید کئے گئے 24 کشمیری پنڈتوں کو آج پھر یاد کیا گیا۔ پاکستانی آقاؤں کے اشاروں پر کام کرنے والی ممنوعہ تنظیم لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے 23 اپریل 2003 تین کو رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے نہتے کشمیری پنڈتوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے پنڈتوں کی یاد میں آج جموں میں کئی مقامات پر شہیدوں کو گلہائے عقیدت نظر کئے گئے۔

    جنوبی کشمیر کے ناڑی مرگ گاؤں میں 2003 میں آج ہی کے روز دہشت گردوں کی جانب سے شہید کئے گئے 24 کشمیری پنڈتوں کو آج پھر یاد کیا گیا۔ پاکستانی آقاؤں کے اشاروں پر کام کرنے والی ممنوعہ تنظیم لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے 23 اپریل 2003 تین کو رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے نہتے کشمیری پنڈتوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے پنڈتوں کی یاد میں آج جموں میں کئی مقامات پر شہیدوں کو گلہائے عقیدت نظر کئے گئے۔

    جنوبی کشمیر کے ناڑی مرگ گاؤں میں 2003 میں آج ہی کے روز دہشت گردوں کی جانب سے شہید کئے گئے 24 کشمیری پنڈتوں کو آج پھر یاد کیا گیا۔ پاکستانی آقاؤں کے اشاروں پر کام کرنے والی ممنوعہ تنظیم لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے 23 اپریل 2003 تین کو رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے نہتے کشمیری پنڈتوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے پنڈتوں کی یاد میں آج جموں میں کئی مقامات پر شہیدوں کو گلہائے عقیدت نظر کئے گئے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: جنوبی کشمیر کے ناڑی مرگ گاؤں میں 2003 میں آج ہی کے روز دہشت گردوں کی جانب سے شہید کئے گئے 24 کشمیری پنڈتوں کو آج پھر یاد کیا گیا۔ پاکستانی آقاؤں کے اشاروں پر کام کرنے والی ممنوعہ تنظیم لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے 23 اپریل 2003 تین کو رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے نہتے کشمیری پنڈتوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے پنڈتوں کی یاد میں آج جموں میں کئی مقامات پر شہیدوں کو گلہائے عقیدت نظر کئے گئے۔ جموں میں مٹھی علاقے میں ایسے ہی ایک پروگرام میں بھاری تعداد میں کشمیری پنڈتوں نے ناڑی مرگ کے شہیدوں کو یاد کیا۔

    پُر نم آنکھوں سے ان 24 شہیدوں کو یاد کرتے ہوئے ہیرا لال بھٹ نے کہا کہ وہ آج ایک بار پھر اپنے ان بچھڑے ساتھیوں اور پڑوسیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہیں دہشت گردوں نے دوہزار تین میں بے رحمی سے قتل کیاتھا۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ہیرا لال بھٹ نے کہا،" یہ وہ کشمیری پنڈت تھے جنہوں نے  1990  کے اوائل میں وادی میں ملی ٹینسی شروع ہونے اور اس سے پیدا شدہ خطرات کے باوجود یہ فیصلہ لیاتھا کہ وہ اپنے ہی آبائی گاؤں میں رہائش پذیر رہیں گے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ لگ بھگ ایک درجن پولیس اہلکاروں، جوان کی حفاظت پر مامور کئے گئے تھے،کی موجودگی کے باوجود بھی چوبیس کشمیری پنڈتوں کا قتل عام کیاگیا۔ انہیں اپنے گھروں سے باہر نکال کر قطار میں کھڑا کیاگیااور ان پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں۔

    شہید کئے گئے ان کشمیری پنڈتوں میں گیارہ مردوں کے علاوہ اتنی ہی تعداد میں خواتین اور دو شیر خوار بچے شامل تھے" ہیرا لال بھٹ کشمیر کی سیول سوسائٹی سے کئی سوال پوچھتے ہوئے نظر آئے انہوں نے سوال کیا،" اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سب کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نہیں نکالا تو اس سوال کا جواب دیجئے کہ ناڑی مرگ کے ان معصوم لوگوں کی کیا خطا تھی جنہیں دہشت گردوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم خواتین کے خلاف تشدد آمیز کاروائیاں نہیں کرتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اس جوان لڑکی کا کیا قصور تھا جو دلہن بننے کا خواب دیکھ رہی تھیں۔ کہ آپ نے اس کو گولیوں سے چھلنی کرکے اس کے وہ خواب چکنا چور کر دئے۔ میرا ان دہشت گردوں اور ان کے حمایتوں سے یہ سوال ہے کہ ان دو شیر خوار نے آپ کا کیا بگاڑا تھا۔ کہ آپ نے ان کا سفاکانہ قتل کیا۔"

    یہ بھی پڑھیں۔

    کشمیری پنڈتوں کے سوال پر بھڑکے فاروق عبداللہ، کہا- سچ جاننا ہے تو جانچ کمیشن بنائیں

    ہیرا لال بھٹ نے ناڑی مرگ میں کشمیری پنڈتوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے رول پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا ان پنڈتوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں نے دہشت گردوں کی فائرنگ کا جواب کیوں نہیں دیا میں پوچھتا ہوں کیا انہوں نے ان معصوم شہریوں کو دہشت گردانہ حملے سے بچانے کے لئے کوئی کوشش کی؟پروگرام میں ناڑی مرگ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والے ایک اور کشمیری پنڈت مہاجر بھوشن لال بھٹ کا کہنا ہے کہ سرکار نے ناڑی مرگ سانحہ کی تحقیقات کے لیے کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔

    نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" ناڑی مرگ قتل عام میں ملوث افراد آج بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ناڑی مرگ گاؤں کا باشندہ ہونے کے ناطے میں سرکار سے سوال کرتا ہوں کہ اس انسانیت سوز واقعہ میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔"ادھر کشمیری مہاجرین کی مختلف تنظیموں نے آج اپنا یہ مطالبہ پھر دہرایا کہ وادی میں ملی ٹنٹنوں کے ہاتھوں مارے گئے کشمیری پنڈتوں کے تمام واقعات کی تحقیقات کرائی جائے تاکہ مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: