ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کشمیر کے دو جوانوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے ایک بار پھر تاریخ کی رقم

Jammu and Kashmir News : جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع سے تعلق رکھنے والے محفوظ عالم نے کپواڑہ کے فوجی جوان محمد اقبال خان و دیگر پانچ کوہ پیماؤں کے ساتھ ایورسٹ کو سر کر کے ایک نئی رقم تاریخ کی ہے۔ اس طرح سے محفوظ عالم ایسے پہلے کشمیری مرد سویلین بنے ، جنہوں نے یہ تاریخ رقم کر لی ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کشمیر کے دو جوانوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے ایک بار پھر تاریخ کی رقم
جموں و کشمیر : کشمیر کے دو جوانوں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے ایک بار پھر تاریخ کی رقم

جموں و کشمیر : کشمیر کے دو جوانوں نے دنیا کی عظیم چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر کے جموں و کشمیر کیلئے پھر ایک مرتبہ تاریخ رقم کرلی ہے ۔ یہ دونوں جوان جواہر انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ ایڈ ونٹر اسپورٹس اور نینشل انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹیننرنگ کے اشتراک سے ماؤنٹ ایورسٹ سمٹ کا حصہ تھے ۔ ان کی کارکردگی جہاں جموں و کشمیر کیلئے خاص تصور کی جا رہی ہے ، وہیں یہاں کے نوجوانوں میں اسے صلاحیتوں کو فروغ ملنے کا بھی ذریعہ مانا جا رہا ہے ۔


دنیا کی عظیم ہمالیائی پہاڑی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی پر جانا بھلا کس کا خواب نہیں پوگا ، لیکن بہت کم لوگ اس خواب کو اڑان بخش کر دنیا کے اونچائی پر پہنچ جاتے ہیں ۔ جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع سے تعلق رکھنے والے محفوظ عالم نے کپواڑہ کے فوجی جوان محمد اقبال خان و دیگر پانچ کوہ پیماؤں کے ساتھ ایورسٹ کو سر کر کے ایک نئی رقم تاریخ کی ہے۔ اس طرح سے محفوظ عالم ایسے پہلے کشمیری مرد سویلین بنے ، جنہوں نے یہ تاریخ رقم کر لی ۔


یکم اپریل 2021 کو دہلی سے اس ٹیم کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا تھا اور یکم جون 2021 کو یہ ٹیم ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرکے بیس کیمپ واپس پہنچی تھی ۔ جواہر انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ پہلگام واپس پہنچنے پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ محفوظ یہ کارنامہ انجام دیکر بے حد خوش ہیں ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے محفوظ نے کہا کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا ان کا خواب تھا ، جو جواہر انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ کی وجہ سے شرمندہ تعبیر ہوا ہے ۔


محفوظ کے مطابق وہ بچپن سے ہی کوہ پیمائی کا شوق رکھتے تھے اور جموں و کشمیر سے باہر انہوں نے پیشہ ور کوہ پیما بننے کیلئے ماونٹینرنگ اور ٹریکنگ کے ایڈوانسڈ کورسز کئے ، جس کے بعد وہ جواہر انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ میں بحثیت انسٹرکٹر تعینات ہوئے اور خوش قسمتی سے اس کا انتخاب ماؤنٹ ایورسٹ پر جانے والی ٹیم کیلئے کیا گیا ، جو ان کیلئے کسی خواب سے کم نہیں ہے ۔ محفوظ کے مطابق جموں و کشمیر کے جوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، لیکن ان صلاحیتوں میں ابھار لانے کی بے حد ضرورت ہے ۔

محفوظ نے یہ سمٹ کپواڑہ کے فوجی حوالدار اقبال خان و دیگر پانچ اراکین کے ساتھ پوری کیا ۔ اقبال خان کے مطابق یہ سفر مشکلات سے بھرا ہوا ضرور تھا ، لیکن جموں و کشمیر کے نام کو روشن کرنے کے جذبے نے ان کے حوصلے کو پست نہیں ہونے دیا اور آخر کار ملک کے مختلف حصوں کے کوہ پیماؤں کے ساتھ انہوں نے یہ مشکل ہدف پورا کیا ۔

دو قومی اداروں نے کرنل او ایس تھاپا کی قیادت میں بشمول کرنل امت بشت و دیگر اراکین کے ساتھ مل ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا ہدف پورا کیا ۔ کرنل تھاپا ، جو کہ جواہر انسٹب ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ اور ونٹر اسپورٹس کے پرنسپل بھی ہیں ، نے کہا کہ اس مشکل ترین سفر کے دوران ٹیم کو دو سائیکلونز اور برفانی طوفانوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود بھی ٹیم کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور آخر کار پہلی بار قومی پرچم کے ساتھ ساتھ دونوں قومی اداروں کے جھنڈے ایک بین الاقوامی چوٹی پر لہرائے گئے ۔

کرنل تھاپا کے مطابق ان کی ٹیم میں 6 فوجی شامل تھے ، جبکہ محفوظ الہی اس ٹیم میں واحد سویلین تھا ۔ لیکن محفوظ نے جس طرح سے یہ چلینج پورا کیا ، اسے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کشمیر میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے ، لیکن بہت کم نوجوان کوہ پیمائی کی جانب راغب ہو رہے ہیں اور جواہر انسٹی ٹیوٹ آف ماونٹینرنگ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔ کرنل تھاپا کے مطابق نوجوانوں کو ایڈوینچرس اور کوہ پیمائی کیلئے آگے آنا چاہئے ۔ تاکہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا لوہا منوایا جا سکے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی اس مہم میں کامیابی کا جھنڈا گاڑنے پر جہاں کشمیری جوانوں نے ایک نمایاں کردار ادا کیا ، وہیں اس فتح یاب مہم کو کشمیر کے ایڈوینچر شائقین کےلئے کافی سود مند تصور کیا جاتا ہے ۔ ٹیم کا حصہ اتراکھنڈ کے فوجی حوالدار چندر نیگی نے کہا کہ کشمیری باشندوں محفوظ اور حوالدار اقبال خان کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ کوشش تھی ، جس کو پوری ٹیم نے ہمت اور حوصلے کے ساتھ پورا کیا ، لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان ایام کے دوران کشمیری لوگوں کو نزدیک سے مزید جاننے اور پہچاننے کا موقع ملا ۔ نیگی کے مطابق کشمیری لوگ نہ صرف خوبصورت ہیں ، بلکہ دل کے بھی حسین ہیں اور ہمت و جذبے کی ایک اعلیٰ مثال بھی ہیں ۔

ادھر جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے ساتھ ساتھ سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے محفوظ اور اقبال خان کو مبارکباد پیش کی ہے اور انہیں کشمیر کی صحیح پہچان قرار دیا ہے ۔

واضح رہے کہ محفوظ الہی سے قبل ناہیدہ منظور نے کشمیر کی پہلی ایسی خاتون بننے کا شرف حاصل کیا ، جس نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا ۔ جبکہ جموں و کشمیر لائٹ انفینٹری کے سپاہی منظور احمد نے بھی ماؤنٹ ایورسٹ کو اسے قبل سر کیا ہے۔ ایسے سے امید کی جا سکتی ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوان اسی راہ پر چل کر نہ صرف ملک بلکہ بین الاقوامی سطحوں پر اپنا نام روشن کریں گے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 17, 2021 11:05 PM IST