உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر: اننت ناگ کے دو اسکالر دوست بنے بے روزگاروں کیلئے مشعل راہ، جانئے کیسے

     جموں و کشمیر: اننت ناگ کے دو اسکالر دوست بنے بے روزگاروں کیلئے مشعل راہ، جانئے کیسے

    جموں و کشمیر: اننت ناگ کے دو اسکالر دوست بنے بے روزگاروں کیلئے مشعل راہ، جانئے کیسے

    Jammu and Kashmir : ڈورو اننت ناگ کے دو اسکالر دوستوں نے بے روزگاری کے خلاف جنگ جیت کر "ٹی آن ویلز" ڈھابہ قائم کر کے دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ عاقب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں جبکہ ان کا دوست اقبال ایم فل ڈگری یافتہ ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
    جموں و کشمیر: ڈورو اننت ناگ کے دو اسکالر دوستوں نے بے روزگاری کے خلاف جنگ جیت کر "ٹی آن ویلز" ڈھابہ قائم کر کے دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرنے کی ٹھان لی ہے۔ عاقب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں جبکہ ان کا دوست اقبال ایم فل ڈگری یافتہ ہیں۔ دونوں دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جبکہ جموں و کشمیر میں رائج ہائر ایجوکیشن پالیسی میں بھی یہ لوگ ترامیم چاہتے ہیں۔

    چائے دام کے نام سے مشہور ٹی آن ویلز ایک چھوٹے سے ڈھابے پر مصروف عاقب اور اقبال دونوں دوست اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دونوں دوستوں نے ایک اچھی نوکری کی تلاش میں کافی جستجو کی، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا اور دونوں دوست اس وقت چائے اور اسنیکس فروخت کر کے ایک اچھی کمائی کر رہے ہیں۔ اب یہ لوگ اپنے کاروبار کو فروغ دینے کی غرض سے "چاۓ دام" کو ایک فوڈ چین بنانے کی ٹھان رہے ہیں جو پورے ملک میں پھیل جائے۔ ان دوستوں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں بڑھتی بے روزگاری شرح نے انہیں چائے دام کا کنسیپٹ دیا اور آج انہوں نے کامیابی کی ایک پائیدان پر قدم رکھ کر دوسروں کے روزگار کی راہیں بھی ہموار کر رہے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر: تین بچوں کی ماں نے دسویں جماعت کے پرائیویٹ بورڈ امتحانات میں کیا ٹاپ


    عاقب نے نیوز18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوسٹ گریجویشن مکمل کر کے سرکاری نوکری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ساتھ ساتھ پی ایچ ڈی کیلئے بھی کوشش جاری رکھی۔ لیکن سرکاری نوکری کی تلاش میں وقت ضائع ہونے کے بعد انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا اور اس ارداے کو تب مضبوطی حاصل ہوئی جب ان کا دوست اقبال اس منصوبے میں شامل ہوا۔ اقبال کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھایا اور کئی اسکولوں میں بحثیت عارضی لیکچرر کام بھی کیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ الگ کرنے کا خواب پورا نہیں ہو پا رہا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے چائے دام یعنی ٹی آن ویلز کا منصوبہ بنایا اور آج دونوں دوستوں کی ایک اچھی کمائی ہو رہی ہے۔

     

    یہ بھی پرھئے: شمالی کشمیر: ضلع بارہمولہ پٹن کے معراج الدین خان نے پہلی ہی کوشش میں نیٹ کوالیفائی کیا


    دونوں دوستوں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری سے نمٹنے کیلئے سرکار نجی سیکٹر کو فروغ دے۔ جبکہ ہائر ایجوکیشن پالیسی میں ترامیم بھی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی صلاحیتوں اور خدمات کو سماج کیلئے وقف کیا جا سکے اور کسی بھی صورت یہ صلاحیتیں ضایع نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھی سرکاری نوکری نہ ملنے کی وجہ سے دونوں دوستوں نے درجہ چہارم کی اسامیوں کیلئے بھی کئی بار انٹرویو دئے لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی بنا پر انہیں کلاس فورتھ نوکری بھی نہیں دی گئی۔

    دونوں دوستوں کی چائے دام جیسی منفرد پہل نے یقینی طور پر ایسے لوگوں کے لئے مثال قائم کی ہے، جو بے روزگاری کی وجہ سے زندگی کے گمنام اندھیروں میں کھو جاتے ہیں۔ مقامی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں دوست ایسے نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں، جو نوکری نہ ملنے کی وجہ سے تمام امید چھوڑ کر ڈپریشن میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی خراب کر دیتے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: