ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : ڈینٹل شعبہ میں اعلی ڈگری حاصل کرنے والے بے روزگار نوجوانوں نے کیا انوکھا احتجاج

Jammu and Kashmir News : احتجاج کررہے ڈاکٹروں نے سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ احتجاج کرنے والے دانتوں کے ڈاکٹروں نے سبزی اور آئس کریم بیچ کر کہا کہ ان کے پاس ان کی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : ڈینٹل شعبہ میں اعلی ڈگری حاصل کرنے والے بے روزگار نوجوانوں نے کیا انوکھا احتجاج
جموں و کشمیر : ڈینٹل شعبہ میں اعلی ڈگری حاصل کرنے والے بے روزگار نوجوانوں نے کیا انوکھا احتجاج

جموں : جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے پیشہ ور افراد کو نظرانداز کرنے پر دانتوں کے ڈاکٹروں نے احتجاج کیا ۔ احتجاجی ڈاکٹروں نے سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ احتجاج کرنے والے دانتوں کے ڈاکٹروں نے سبزی اور آئس کریم بیچ کر کہا کہ ان کے پاس ان کی روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا ہے ۔ ان ڈاکٹروں نے "ہم انصاف چاہتے ہیں" جیسے نعروں سے سرکار کو آگاہ کیا ۔ بے روزگار دانتوں کے سرجن اپنے دیرینہ مطالبے کی حمایت میں احتجاج کررہے ہیں ۔ احتجاجیوں نے سبزیاں اور آئس کریم فروخت کرکے انوکھا احتجاج کیا ۔


جموں کے ڈاکٹر دیپک بان نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ اس شعبہ سے وابستہ لوگوں نے سن 2008 سے کوئی فارم نہیں بھرا یہ اس لئے کہ محکمہ نے کوئی نوٹیفکیشن نہیں نکالا ۔ ڈاکٹر راہل کول نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جے کے پبلک سروس کمیشن نے دانتوں کے سرجنوں کی بھرتی کرنے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے ۔ انہیں بے روزگار نوجوانوں کا کوئی خیال نہیں رہا۔ احتجاج کرنے والے دانتوں کے سرجنوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر حکومت ایک ہی بار میں تمام ڈاکٹروں کو جگہ نہیں دے سکتی ہے تو اسے سالانہ بنیادوں پر مرحلہ وار طریقہ سے کیا جاسکتا ہے ۔


ایک خاتون احتجاجی نے کہا کہ حکومت  بیٹی پڑھاو بیٹی بچاؤ جیسے نعرے دے رہی ہے ، لیکن ہماری پیشہ ورانہ ڈگریاں پاس کرنے کے باوجود ہم بے روزگار ہیں ۔ احتجاج کررہے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ  آخری بار 2008 میں جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن نے بھرتی کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ 12 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور بے روزگار دانتوں کے سرجنوں کی تعداد 8000 سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ پچھلے ہفتے سے دانتوں کے سرجنوں نے اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لئے مہم چلائی اور ناراضگی میں اپنی پیشہ ورانہ ڈگریوں کے زیروکس کاپیاں بھی جلا ڈالیں ۔ یہ ڈاکٹر ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں ۔


کشمیر سے ڈاکٹر فریان خواجہ نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ سرکار کو ہماری ضرورت نہیں ہے ، شاید انہیں پھر اس شعبہ کو ہی بند کرنا چاہئے ۔ امتیاز متو نے بتایا کہ سرکار کو اس سنجیدہ مسئلہ پر غور کرنا چاہئے اور بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئے ۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے جموں و کشمیر حکومت (ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ، ایچ اینڈ ایم ای) اٹل ڈولو نے کہا کہ ڈینٹل سرجنوں کے کسی بھی عہدے کی تشہیر کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے ، کیونکہ فی الحال کوئی عہدہ خالی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتیں دستیاب ہوں گی اگر نئی آسامیاں تشکیل دی گئیں جس کے لئے محکمہ نے جموں و کشمیر کے محکمہ خزانہ کو خط لکھا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مالی استحکام کے لئے 280 پوسٹیں ارسال کردی ہیں اور ایک مرتبہ جب ہم اسے حاصل کرلیں گے ، تو ہم ان کو بھرتی کرنے والے ادارے کے پاس بھیجنے کی پوزیشن میں ہوں گے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 08, 2021 11:40 PM IST