ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر کو یوٹی کا درجہ دئے جانے کے بعد کئی کاموں میں آئی ہے شفافیت

وادی کشمیر کے ندی نالوں سے باجری اور ریت نکالنے کے کام میں آج تک حکومت بولی کے ذریعہ کچھ ہی لوگوں کو فائدہ پہنچاتی تھی اور سرکار کو بولی کے عوض میں کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تھا ۔ تاہم اس مرتبہ ای ٹینڈرنگ کے ذریعہ کشمیر میں سرکار کو بھاری مالی فایدہ حاصل ہوا ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر کو یوٹی کا درجہ دئے جانے کے بعد کئی کاموں میں آئی ہے شفافیت
جموں و کشمیر کو یوٹی کا درجہ دئے جانے کے بعد کئی کاموں میں آئی ہے شفافیت

جموں کشمیر کو یوٹی کا درجہ دینے کی کئی حلقوں میں شدید مخالفت کی گئی  تھی ۔ تاہم جموں و کشمیرکو یوٹی کا درجہ دینے کے بعد یہاں کے کچھ کاموں میں شفافیت آئی ہے ۔ وادی کشمیر کے ندی نالوں سے باجری اور ریت نکالنے کے کام میں آج تک حکومت بولی کے ذریعہ کچھ ہی لوگوں کو فائدہ پہنچاتی تھی اور سرکار کو بولی کے عوض میں کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تھا  ۔ تاہم اس مرتبہ ای ٹینڈرنگ کے ذریعہ کشمیر میں سرکار کو بھاری مالی فایدہ حاصل ہوا ہے ۔


وادی کشمیر قُدرتی حُسن سے مالا مال ہے ۔ ان میں یہاں کے ندی نالے بھی شامل ہے ۔  وہیں یہاں کے ندی نالوں سے کئی معدنیات بڑے پیمانے پر حاصل کی جاتی ہے ۔ آج تک کشمیر میں ندی نالوں سے نکلنے والے ریت اور باجری کے علاوہ دیگر میٹریل پر سرکاری کو ریونیو کے نام پر کچھ خاص مالیت حاصل نہیں ہوتی تھی ۔ دیگر حصوں کی طرح ہی ضلع پلوامہ میں بھی ندی نالوں سے تقریبا غیر قانونی طریقہ سے ہی یہ کام انجام دیا جاتا تھا ۔ جس سے کچھ لوگوں کو بھاری مالی فائدہ حاصل ہوتا تھا ۔ تاہم یوٹی بننے کے ساتھ ہی اس مرتبہ سرکار نے مائننگ کیلئے ای ٹینڈرنگ کی ۔ جس سے جموں و کشمیر سمیت ملک کے کئی ٹھیکہ داراں نے بولی لگائی اور اس کی وجہ سے پہلی مرتبہ سرکار کو کشمیر سے دو سو کروڑ روپے سے زائد رقم وصول ہوئی ۔


سال 2017 میں ضلع پلوامہ کے ندی نالوں کے لئے جو اوپن بولی لگائی گئی تھی ، اس کے تحت دو کروڑ روپے کے عوض ٹینڈر حاصل کیا گیا تھا ۔ تاہم اس بار ای ٹینڈرنگ کے ذریعہ پلوامہ میں 55 کروڑ روپے کے عوض مائننگ ٹینڈر حاصل ہوا ہے ۔  مائننگ افسر پلوامہ غلام محی الدین کا کہنا ہے کہ آج تک کشمیر کے ندی نالوں سے ریت اور باجری نکالنے کا کام غیر قانونی طریقہ سے ہورہا تھا ، جس کی وجہ سے سرکار کو کسی قسم کا مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تھا ۔ یہی نہیں اس کی وجہ سے ندی نالوں کے باندھ اور ان پر منحصر کئی پینے کے پانی اور آبپاشی اسکیموں کو بھی نُقصان ہوتا تھا  ۔


تاہم اس مرتبہ پہلی مرتبہ ای ٹینڈرنگ  کے ذریعہ ٹینڈر حاصل کرنے والا ٹھیکہ دار پوری طرح ندی نالوں کی قدرتی خوبصورتی برقرار رکھنے کیلئے ذمہ دار ہوگا ۔ اس مرتبہ حکومت نے نہ صرف غیر قانونی طریقہ سے ریت اور باجری نکالنے پر پابندی عاید کی ہے ۔ بلکہ پلوامہ میں غیرقانونی طریقہ سے چل رہے اسٹوں کریشروں کو بھی بند کردیا گیا ہے ۔  ضلع پلوامہ سے دریائے جہلم اور مشہور رنبی آرہ نالہ کے علاوہ رومشی نالہ گزرتا ہے ۔ ان قدرتی وسائل سے آج تک غیر قانونی طریقہ سے باجری نکالنے کے پیچھے بڑا مافیا کام کررہا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 13, 2020 08:19 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading