உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: ہزاروں سال قبل اس جگہ پر آدم خور دیو نے لوگوں کی زندگی کو بنادیا تھا اجیرن، بم سین پہلوان نے کردیا تھا خاتمہ، تبھی سے زول کی روایت ہوئی قائم

    Jammu and Kashmir:  ہزاروں سال قبل اس جگہ پر آدم خور دیو نے لوگوں کی زندگی کو بنایا تھا اجیرن، بم سین پہلوان نے کردیا تھا خاتمہ، تبھی سے زول کی روایت ہوئی قائم

    Jammu and Kashmir: ہزاروں سال قبل اس جگہ پر آدم خور دیو نے لوگوں کی زندگی کو بنایا تھا اجیرن، بم سین پہلوان نے کردیا تھا خاتمہ، تبھی سے زول کی روایت ہوئی قائم

    Jammu and Kashmir : اننت ناگ کے عیش مقام میں قائم بابا حضرت سخی زین الدین ولی رح کا عرس مبارک اختتام پذیر ہوا ہے اور دو سال کے بعد یہاں پر روایتی زول کا اہتمام ہوا۔ زول صدیوں سے بدی پر نیکی کی فتح کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے اور بلا امتیاز مذہب و ملت اس میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: اننت ناگ کے عیش مقام میں قائم بابا حضرت سخی زین الدین ولی رح کا عرس مبارک اختتام پذیر ہوا ہے اور دو سال کے بعد یہاں پر روایتی زول کا اہتمام ہوا۔ زول صدیوں سے بدی پر نیکی کی فتح کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے اور بلا امتیاز مذہب و ملت اس میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ کووڈ کی وبائی صورتحال کی وجہ سے دو سال کے وقفے کے بعد عیش مقام میں بابا سخی زین الدین ولی رح کی درگاہ پر روایتی زول کا اہتمام ہوا۔ جبکہ نہایت ہی عقیدت کے ساتھ انکا عرس پاک منایا گیا۔ دراصل زول کے ساتھ کئی روایات منسلک ہے۔ اگرچہ زول زرعی سرگرمیوں کے آغاز کا ایک اعلان بھی ہے لیکن زول کے ساتھ ایک آدم خور دیو کی مقامی پہلوان بم سین کے ذریعے موت کی داستان بھی جڑی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور کی عمر میں 10 سال کا فرق، اس ایج گیپ والی بالی ووڈ جوڑیوں کو ہوچکا ہے ایسا حال


    ریشی نامے کے مطابق کئی ہزار سال قبل اس شہر میں ایک آدم خور دیو نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا تھا اور ہر شام علاقے کا ایک باشندہ دیو کا نوالہ بن جاتا تھا جس کےلیے لوگوں نے ہر رات ایک گھر سے ایک فرد دیو کا نوالہ بننے کےلیے منتخب کرنے کی روایت جاری کر دی۔ ایک رات علاقے کے ایک نوجوان کی باری آئی اور اسی رات اس نوجوان کی شادی بھی تھی۔ نوجوان کی ماں اپنے بیٹے کے کھونے سے غم سے نڈھال تھی۔ اسی اثناء میں گاؤں سے اس وقت کے ایک نوجوان پہلوان بم سین کا گزر ہوا۔ اس نے بھوڑی عورت کا حال دیکھ کر اور علاقے کی لوگوں کی پریشانی کو ختم کرنے کی ٹھان لی اور بھوڑی عورت کے بیٹے کے بجائے خود آدم خور دیو کا نوالہ بننے کا فیصلہ کیا۔

    عیش مقام میں بابا سخی زین الدین ولی کے آستانے کے ایک مجاور مولوی ظہور احمد کے مطابق یہ وقت حضرت موسیٰ کے دور کا تھا ، جب بم سین دیو کے سامنے حاضر ہوا اور اسے للکارا۔ جس پر دیو طیش میں آ گیا اور بم سین پر حملہ کر دیا، لیکن بم سین نے کافی جرأت اور جواں مردی کے ساتھ 7 روز تک دیو کا مقابلہ کیا اور بالآخر اسے ختم کر کے علاقے کو اس ظالم دیو سے نجات دلائی۔ ریشی نامہ میں درج اس داستان کے مطابق دیو کے خاتمے کے بعد لوگوں نے بطور خوشی اور شادیانے کے مشعل جلائے جس کو بعد زول کا نام پڑا۔

     

    یہ بھی پڑھئے : Assam: آندھی پانی کے ساتھ بجلی گرنے سے 14 کی موت، اگلے دو دن میں بھاری بارش کی پیشین گوئی


    اس زمانے سے لیکر اب تک ہر سال نیکی کی بدی پر فتح کی علامت کے طور پر سخی زین الدین ولی رح کی درگاہ پر ہر اس زول کا اہتمام ہوتا ہے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس زول میں شرکت کر کے دنیا سے ظلم مٹانے اور امن قائم کرنے کا پیغام عام کرتے ہیں۔

    اننت ناگ کے عیش مقام میں قائم بابا حضرت سخی زین الدین ولی رح کا عرس مبارک اختتام پذیر ہوا ہے
    اننت ناگ کے عیش مقام میں قائم بابا حضرت سخی زین الدین ولی رح کا عرس مبارک اختتام پذیر ہوا ہے


    ایک مقامی سماجی کارکن شاہ نواز شاہ کے مطابق زول کو جہاں بدی پر نیکی کی فتح کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، وہیں اس سے ریشیوں منیوں کے پیغامات کو عام کرنے کا ایک ذریعہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ جبکہ بابا سخی زین الدین ولی کی بقائے انسانیت کے تئیں خدمات کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ شاہ نواز کے مطابق جہاں اس وقت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بھی فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسے میں کشمیر سے زول کی صورت میں مذیبی ہم آہنگی اور قیام امن کا پیغام پوری دنیا کو دیا جاتا ہے ، جسے آج کے دور میں سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے۔

    عیش مقام میں سخی زین الدین ولی کا عرس مذہبی اہمیت کے علاوہ بھائی چارے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرس کے دوران زؤل میں بلا امتیاز مذہب و ملت لوگ شرکت کرتے ہیں۔ وقف کے منتظم عاشق حسین کے مطابق اولیائے کرام نے ہمیشہ بھائی چارے اور انسانیت کا درس دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال نہ صرف مسلم بلکہ ہندوں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد زول میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور اپنی مرادیں زیارت پر لیکر آتے ہیں۔

    زول کے اس صدیوں پرانے تہوار کے ذریعہ لوگ یقینی طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے دنیا میں بدامنی اور نفرت کی پھیلتی آگ پر قابو پانے کےلیے اولیائے کرام اور ریشی بزرگوں کی تعلیمات کو عام کیا جائے۔

    دریں اثناء عوامی رشتوں کو مضبوط بنانے اور تال میل کو فروغ دینے کی غرض سے فوج نے عیش مقام میں منعقدہ زول فیسٹیول میں شرکت کی اور 3 راشٹریہ رایفلز کے سی، او کرنل بمایا نے دیگر افسران کے ہمراہ سخی زین الدین ولی کی درگاہ پر حاضری دی۔ اس موقع پر فوجیوں نے روایتی زول جلا کر مقامی لوگوں کے ساتھ خوشیاں بانٹیں۔ جبکہ کئی غیر کشمیری باشندوں نے بھی اس دوران آستانے پر حاضری دی اور زول میں حصہ لیا۔ اس موقع پر کشمیر اور ملک کی خوشحالی و قیام امن کے لیے خاص دعائیں کی گئی۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: