ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے ویشنو دیوی یاترا بھی متاثر

Jammu and Kashmir News : ہر سال اپریل کے مہینے سے ماتا کے درشن کے لئے لوگ آنا شروع ہوتے تھے اور یہاں اس مہینے میں ہر روز پچاس ہزار سے زیادہ لوگ ماتا کا درشن کر کے واپس چلے جاتے تھے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے ویشنو دیوی یاترا بھی متاثر
جموں و کشمیر : کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے ویشنو دیوی یاترا بھی متاثر

جموں : کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہے ، وہیں اس کا اثر مذہبی مقامات پر صاف دکھائی دے رہا ہے ۔ جموں میں موجود مشہور ماتا ویشنو دیوی مندر میں ان دنوں عقیدت مندوں کا کافی رش رہتا تھا ۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے اب عقیدت مندوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے یہاں کے تجارت پیشہ افراد ، ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹرس سخت پریشان ہیں ۔


ہر سال اپریل کے مہینے سے ماتا کے درشن کے لئے لوگ آنا شروع ہوتے تھے اور یہاں اس مہینے میں ہر روز پچاس ہزار سے زیادہ لوگ ماتا کا درشن کر کے واپس چلے جاتے تھے ۔ پچھلے سال بھی یہ تعداد کافی کم درج کی گئی تھی اور اس سال امید تھی کہ ماتا کے درشن کے لئے پچھلے سالوں کی طرح یہاں عقدت مند آئیں گے ، لیکن اس سال بھی پچھلے سال کی طرح ہی کورونا کی وجہ سے یہاں زیادہ عقیدت مند حاضری دینے کے لئے نہیں آئے ۔


نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے سی ای او رمیش کمار کا کہنا ہے کہ انہوں یہاں ایس او پیز کا خاص خیال رکھا ہے ، لیکن اس کے باجود بھی اب یاتری وائرس کے خوف سے یہاں کا رخ نہیں کرتے ہیں ۔ اگرچہ اس علاقہ کے روزگار کا دارمدار یاترا سے ہی جڑا ہوا ہے ، لیکن لاک ڈاون اور وبا کی وجہ اس علاقے کے دکاندار، ہوٹل مالکان اور ٹرانسپوٹرس بے روزگار ہوگئے ہیں ۔


ایک ہوٹل مالک راکیش گپتا کا کہنا ہے کہ پچھلے سالوں میں ہر روز ان کے ہوٹل کی ایڈوانس بکنگ رہتی ہے ، لیکن آج تمام کمرے خالی پڑے ہیں ۔ ایک دکاندار کا کہنا ہے اگرچہ کچھ یاتری یہاں آتے بھی ہیں ، لیکن وہ کورونا کے ڈر کی وجہ سے خریداری نہیں کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک دن میں ہزاروں میں کماتے تھے ، لیکن آج وہ دوسو بھی نہیں کما پاتے ہیں ۔

وہیں ٹرانسپورٹرس کا بھی برا حال ہے ۔ ایک ٹرانسپورٹر کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر اپنی گاڑی چلاکر ہزاروں روپے کما کر گاڑی کی قسط اور افراد خانہ کا بھی خوشی سے کفالت کررہا تھا اور آج اس وبا کی وجہ سے دن بھر بیٹھے رہتے ہیں اور گاڑی کی قسط بھی نہیں ادا  نہیں کرسکتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 03, 2021 11:54 PM IST